پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع خصوصاً وزیرستان گو نا گوں مسائل کا شکار ہے،جبکہ سرکاری تعلیمی ادارے ویران پڑے ہیں ،اپنے دورہ شمالی و جنوبی وزیرستان سے واپسی پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے دورے کے دوران مختلف مسائل سے آگاہی حاصل ہوئی اور وہاں کے عوام شدید مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں جبکہ تعلیمی ادارے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ علاقے میں جاری جنگوں ، دھماکوں اور آپریشنز کی وجہ سے صرف وانا سب ڈویژن میں14سو افراد معذور ہو چکے ہیں جن میں 450کے لگ بھگ خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور غیرسرکاری تنظیمیں بھی انسانی ہمدردی کی خاطر مسئلے کے حل کیلئے کوششیں کریں اور حکومت ان کے علاج معالجے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات یقینی بنائے ، انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے معذور افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ نادرا ان معذور افراد کو شناختی کارڈ تک جاری نہیں کر رہا ،جو انتہائی زیادتی اور افسوسناک ہے ، انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹوں پر عوام کو تنگ کیا جاتا ہے جس سے وزیرستان کے غریب عوام ذہنی مریض بن چکے ہیں،دہشت گردی اور آپریشنز سے قبائلی عوام کا اربوں روپے کا نقصان کیا ہے لیکن حکومت کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے نکلنے کا نام نہیں لے رہی ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاکھوں بلاک شناختی کارڈز کی بحالی یقینی بنائی جائے ،صوبائی حلقوں میں اضافہ کیا جائے ،شہداء پیکج کا اعلان کیا جائے اور خاصہ دار اور لیویز کو پولیس میں ضم یا پولیس کے برابرمراعات دینے کے ساتھ ساتھ موبائل سروس کا آغاز اور تھری جی و فور جی کا اجرا کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ انگور اڈا بارڈر کو تجارت کے مقاصد کیلئے کھولا جانا چاہئے،انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ گومل زام ڈیم کی رائیلٹی وزیرستان کی تعمیر وترقی پر خرچ کرنی چاہئے۔