پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ نیب کے چیئرمین حکومتی اشاروں پر اپوزیشن کے خلاف متنازعہ کاروائیوں میں مصروف ہیں اور خیبر پختونخوا کے ملم جبہ اراضی اور بی آر ٹی جیسے میگا کرپشن سکینڈل سے چشم پوشی اختیار کر رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ چارسدہ میں ملاقات کیلئے آنے والے اے این پی صوابی کی نو منتخب کابینہ اور چاروں تحصیلوں کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان بھی اس موقع پر موجود تھے ، اسفندیار ولی خان نے مہمانوں کا استقبال کیا اور کہا کہ باچا خان کا دوسرا گھر صوابی ہے اور اسی نسبت سے صوابی سے انسیت غیر معمولی ہے، انہوں نے تمام پارٹی عہدیداروں و کارکنوں پر زور دیا کہ وہ صوابی میں پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچانے کیلئے دن رات محنت کریں اور گزشتہ الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے محرکات پر نظر رکھتے ہوئے خود کو مستقبل کیلئے تیار کریں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ جلد صوابی کا دورہ کروں گا جس میں سلیم خان ایڈوکیٹ پارٹی میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان بھی کریں گے، انہوں نے کہا کہ ضلع میں تمام ناراض ساتھیوں کو منانے کیلئے مرحلہ وار کوششیں شروع کی جائیں اور جہاں کہیں بھی ضرورت ہو میں خود جانے کیلئے تیار ہوں،انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کامیابی کیلئے ہم سب کو ذاتی انا دفن کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق کے ذریعے آگے بڑھنا ہو گا، ملکی صورتحال کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وزیر اعظم پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں جس کی کوئی ایک جھلک تاحال نظر نہیں آ رہی تاہم انہیں سب سے پہلے وزیرستان میں تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ دینی چاہئے ،انہوں نے کہا کہ کپتان الیکشن سے قبل پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے بڑے بڑے اعلانات کرتے رہے جبکہ انہیں وزیرستان میں دہشت گردی اور آپریشن سے تباہ ہونے والے ہزاروں گھر ذاتی و قومی املاک اورانفراسٹرکچر نظر نہیں آ رہے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ صرف پنجاب کو نوازنے اور وہاں کے ووٹ بنک پر نظر رکھنے کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبائلی عوام کی تباہ حال املاک تعمیر کر کے ان کی باعزت واپسی یقینی بنائی جائے،انہوں نے کہا کہ قوم کو مرغیوں سے کروڑ پتی بننے کا فارمولہ دے کر وزیر اعظم کی اپنی ہمشیرہ سلائی مشینوں سے ارب پتی بن گئیں لیکن بنی گالہ کا غیر قانونی گھر اور علیمہ کے67ارب کی کرپشن کو کلیئر کرنے کیلئے جرمانوں کا سہارا لیا گیا ملک میں دوہرا قانون ہے ، پی ٹی آئی کا کرپٹ مافیا فرشتے اور سیاسی مخالفین سب چور ڈکلیئر کئے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی بہن اور نواز شریف کے بیٹوں کے خلاف جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو علیمہ خان کی بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی جا رہی ۔مرکزی صدر نے کہا کہ نیب حکومت کی کٹھ پتلی ہے اور چیئرمین نیب سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے میں حکمرانوں کی مدد کر رہے ہیں جبکہ ملم جبہ اراضی اور بی آر ٹی سمیت کئی کیسوں میں عمران خان ، پرویز خٹک اور اسد قیصر براہ راست ملوث ہیں،اے این پی بلا امتیاز احتساب کے حق میں ہے لیکن اسے کسی کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے،انہوں نے کہا کہ عمران پہلا شخص ہے جس نے طلاق کے بعد اپنی بیوی سے حق مہر لیا ،نواز شریف کے خلاف تقریریں کرنے والے وزیر اعظم کو چاہئے کہ اب اپنے بیٹوں اور بیٹی کو پاکستان لاکر یہاں کے سکولوں میں داخل کرائے،انہوں نے کہا کہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والا خود صادق و امین نہیں ہے،پی ٹی آئی کی پوری کشتی میں سوراخ ہو چکے ہیں اور نیب کا ایک فرشتہ اسے بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے،انہوں نے کہا کہ میری ملائشیا اور دبئی میں جائیدادوں کے الزامات لگانے والوں کی اپنی غیر قانونی بے نامی جائیدادیں نکل آئیں ، کپتان اب اقتدار میں ہے میرے خفیہ اثاثے نکلوائے تو میں آدھے اسے اور نصف ڈیم فنڈ میں دے دونگا،اسفندیار ولی خان نے افغانستان کے بارے میں حالیہ بیان کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم کو افغان حکومت کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ، دوسروں کے گھروں میں پتھر پھینکنے والے وہاں سے پھولوں کی توقع نہ رکھیں۔