عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے 70سال بعد بھارت نے پاکستان سے کشمیر چھینا ہے،کیا کشمیر آدھا گھنٹہ سڑک بند کرنے سے آزاد ہوگا؟کشمیراب مقابلے سے آزاد ہوگا،ڈرامہ بازیوں سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا،پنجاب ضع خوشاب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ کپتان سیدھا سیدھا کہہ دیں کہ اُس نے امریکہ میں کشمیر کا سودا کرلیا ہے،اگر ریاست پاکستان باچا خان پر اعتماد کرتا تو آج کشمیر آزاد ہوتا۔عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے جنرل مشرف کے خواب کو تعبیر دی ہے،آج مودی،ٹرمپ اور عمران نے مل کر مشرف والی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر جموں کشمیر بھارت کو دے دیا ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کے روشنی میں حل کرنا چاہتا ہے،کشمیر کشمیریوں کا ہے اور اُنہی کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا کیا فیصلہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے آڑ میں یہ بات بھی کی گئی کہ اگر کشمیر ہندوستان لے گیا ہے تو افغانستان امن مذاکرات کو ناکام بنایا جائے،کیا پختونوں کا خون اتنا سستا ہوگیا ہے؟افغان جنگ کی وجہ سے پاکستان میں بسنے والے پختون تباہ ہوکر رہ گئے ہیں،افغانستان کے پختون بھی اس جنگ میں تباہ ہوگئے ہیں،ہم تو روز اول سے کہہ رہے تھے کہ افغانستان کا مسئلہ اسلام اور کفر کا جنگ نہیں ہے بلکہ یہ روس اور امریکہ کی جنگ ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی امن مذاکرات کی حق میں ہے،ہم افغان امن مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت چاہتے ہیں اگر اس عمل میں حکومت افغانستان کو نظر انداز کیا گیا تو پورا خطہ اور پاکستان ایک اور جنگ میں چلا جائیگا۔امن مذاکرات میں تمام فریقین کو داعش کے حوالے سے بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ داعش کا مقابلہ افغانستان میں کس طرح کیا جائیگا؟ہم کشمیر کی طرح افغانستان کے حوالے سے بھی یہی پالیسی رکھتے ہیں کہ کشمیر کی طرح افغانستان میں بھی ظلم نہ ہو،وہاں بھی دھماکے نہ ہو،اگر ایک بارڈر پر امن کی بات کی جائے اور دوسری بارڈر پر دہشتگردی کو پروان چڑھایا جائے تو یہ کسی صورت کامیاب پالیسی نہیں ہوسکتی بلکہ یہ ملک کو تباہ کرنے کی ایک اور سازش ہوگی۔ملکی معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملکی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے،آئی ایم ایف کے بندوں کے ذریعے ٹیکسسز لگا کر پھر بھی لوگوں کو کہا جارہا ہے کہ تھوڑا صبر کریں،ملک میں مزید ٹیکسسز بھی لگیں گے،وقت آگیا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ بھی عمران سے اپنے ہاتھ پیچھے کرلیں،اگر عمران کو اسی طرح سپورٹ کیا جاتا رہا تو ملک مزید تباہی کی طرف جائیگا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس وقت ملک میں عجیب حالات ہیں،احتساب سے لیکر میڈیا تک سب کچھ مقتدر قوتوں نے اپنے قبضے میں کیے ہیں اور ایک عمران کیلئے اُس کو استعمال کیا جارہا ہے،اگر یہی حالات رہے تو ملک ایسی تباہی کی طرف جائیگا کہ پھر ملک کو واپس اپنے پاوں پر کھڑا کرنا مشکل ہوجائیگا۔