پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کو مسترد کرتے ہوئے اسے تصوراتی دنیا کا خواب قرار دیا ہے، حکومتی کارکردگی بارے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان گزشتہ حکومتوں کے پرانے پاکستان کے مقابلے میں ہر محاذ پر زمین بوس ہو چکا ہے،پارلیمانی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور حکومت صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے چلائی جا رہی ہے،ایک سال میں کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی جبکہ اہم تریم مسئلہ کشمیر پر مسلط وزیراعظم پارلیمنٹ کے جائنٹ سیشن میں چار گھنٹے تاخیر سے پہنچے، اور ہمیشہ سے پارلیمنٹ کا تقدس مجروح کرتے ہوئے اسے ڈی چوک کا کنٹینر سمجھے رکھا،انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار سٹینڈنگ کمیٹیوں کی رپورٹ پر کاروائی نہیں ہوئی،انہوں نے کہا کہ کابینہ میں اکثریت غیر منتخب افراد کی ہے کیونکہ پی ٹی آئی میں ایسا کوئی بھی قابل شخص نہیں جسے عہدے یا وزارت دی جائے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ معاشی پالیسی پر نظر دوڑائیں تو آج کا پاکستان آئی ایم ایف کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے، 70سالہ تاریخ میں پہلی بار معاشی پالیسی آئی ایم ایف بنا رہا ہے، معیشت تباہ،سٹاک ایکسچینج کریش کر گئی، ڈالر کی اڑان،روپے کی بے قدری،سونے کی قیمتیں،آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ تیل گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام اور تاجر طبقے کو زندہ درگور کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ناکامیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جانا چاہئے تھا،نیب کو احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کیلئے استعمال کیا گیا،اوریہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے، انہوں نے کہا کہ نیب اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان فٹبال بنا ہوا ہے اور اسے من پسن نتائج حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور حکومت کی غیر دانشمندانہ پالیسی کی وجہ سے بھارت کشمیر پر فیصلہ مسلط کرنے میں کامیاب رہا، انہوں نے کہا کہ مودی کی فتح بارے ہمارے سلیکٹڈ وزیر اعظم کا بیان ریکارڈ پر ہے اور یہ اس جانب اشارہ ہے کہ امریکہ میں کشمیر کا سودا کیا گیا،ٹرمپ کے اشارے پر امریکہ دوڑنے والوں نے چین جیسا دوست بھی گنوا دیا، انہوں نے کہا کہ سی پیک پر پختونوں کے تحفظات بدستور موجود ہیں،مغربی اکنامک کوریڈور غائب کر دیا گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات تک نے بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا لی ہیں،انہوں نے کہا کہ خارجہ محاذ پر پاکستان تنہا ہو چکا ہے تما ہمسایہ و دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں،وزیراعظم کی سلیکشن پاکستان مخالف ایجنڈے کا حصہ تھی،انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کشمیر جیسے اہم مسئلے پر بھی خواب خرگوش میں رہا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت کے پاس کارکردگی دکھانے کو کچھ بھی نہیں،اندرونی پالیسیاں تک ناکام ہو چکی ہیں ملک بھر میں امن و امنا کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کر رہے ہیں،70کالعدم تنظیموں کی مختلف ناموں سے سرگرمیاں جاری ہیں حافظ سعید کو کارڈ کے طور پر کھیلا جا رہا ہے ایسے میں دنیا پاکستان پر اعتبار کیسے کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کیلئے سیکورٹی رسک ہے، اور اگر مزید اقتدار میں رہی تو پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں چلا جائے گا،انہوں نے کہا کہ اے این پی طویل عرصہ سے دہراتی رہی کہ دہشت گرد پارلیمنٹ تک رسائی چاہتے ہیں اور آج ملک کی پارلیمان میں پی ٹی آئی اس صورت میں موجود ہے، جو دہشت گردوں کے ساتھی ہیں اور اپنے دوست دہشت گردوں کو فنڈنگ بھی کر رہے ہیں، مرکزی و سوبائی وزرا کی اکژریت کالعدم تنظیموں سے ہے، انہوں نے کہا کہ90دن کی تبدیلی کی طرح سال کی کارکردگی بھی ناکام ثابت ہوئی اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اور کوشش کی گئی، انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری کے بلند وبانگ دعوے بھی سرکاری اعداد وشمار سامنے آنے کے بعد کھل گئے،اخراجات میں 18فیصد اضافہ ریکارڈ پر موجود ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بناتے بناتے اسے شادی ہال بنا دیا گیا،دنیا کا بدترین عہد شکن شخص پاکستان پر مسلط ہے،کرپشن کے خلاف اعلانات کرنے والے نے جہانگیر ترین کو بچا کر رکھا ہے جبکہ خود ہیلی کاپٹر کیس میں نامزد ملزم ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں دوہرا نظام رائج ہے۔