پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ دینی،تہذیبی،ثقافتی اور خونی رشتوں میں بندھے ہیں لیکن بدقسمتی سے دونوں ممالک بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہیں،موجودہ صورتحال سے نجات کیلئے پاکستان و افغانستان کو اپنے مشترکہ دشمن کومات دینا ہوگی اور اس مقصد کیلئے مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی، 19اگست یوم استقلال افغانستان کے سو برس مکمل ہونے پر اپنے خصوصی پیغام میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دنیا کی ہر آزاد قوم دوسری اقوام کی آزادی کااسی طرح احترام کرتی ہے جیسا اپنی آزادی کا کرتی ہے،اور جس طرح ہر قوم کو اپنی آزادی عزیز ہے اور اس کی خوشی مناتی ہے اس طرح افغان قوم کو بھی اپنی آزادی عزیز ہے، بدقسمتی سے کچھ ممالک پراکسی وار کے ذریعے اسلامی ممالک میں یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور دہشت گردوں کو استعمال کر کے تشدد، عدم استحکام، غربت اور پسماندگی لانا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت انتہائی اہم ہے،مذاکراتی عمل قدم بہ قدم آ گے بڑھ رہا ہے اور مثبت پیشرفت جاری ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے کیساتھ جڑا ہوا ہے تاہم اگر اوائل میں اگر ہمارے قائدین کی بات مانی جاتی تو آج دونوں ممالک کو موجودہ صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا،انہوں نے کہا ماضی کی طرح آج بھی اور آنے والے وقتوں میں بھی ہم اپنے افغان بھائیوں کے ہر دکھ درد اور ان کی خوشی میں شریک رہیں گے،انہوں نے کہا دہشت گردی اور شدت پسندی نے آج پوری دنیا میں ایک مائنڈ سیٹ کی شکل اختیار کررکھی ہے اس لیے دنیا کی تمام امن دوست اور بشردوست قوتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ مل کر اس مائنڈ سیٹ کومات دیں،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے دونوں ممالک کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے از سر نو تشکیل دینی چاہئیں، انہوں نے کہا کہ پر امن افغانستان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اے این پی کی جدوجہد اور موقف کی پوری دنیا معترف ہے اور ہم نے اس ضمن میں بہت بڑی قیمت بھی چکائی ہے، اُنہوں نے کہا کہ اے این پی خطے میں جاری تشدد اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کو آرڈی نیشن کے علاوہ بہتر اور دوستانہ تعلقات کو ناگزیر قرار دیتی آئی ہے اور اس سنگین مسئلے کے حل کا واحد راستہ یہ ہے کہ پراکسی وار اور بداعتمادی کی بجائے انتہا پسندوں کو مشترکہ دُشمن قرار دے کر ان کے خلاف موثر کارروائیاں کی جائیں۔