پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت اپنے چہیتوں سرمایہ داروں اور کارخانہ داروں کے قومی خزاے اور غریب عوام کے ٹیکسوں کے 221 ارب روپیہ معاف کرنے پر قوم سے معافی مانگیں اور فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لیں،باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں سردار حسین بابک نے کہاکہ حکومت صوبے کے بجلی منافع کے اربوں روپیہ بقایا جات ادا کرنے سے کترا رہا ہے جبکہ دوسری طرف وہی وفاقی حکومت اپنے چہیتوں کے قرضے معاف کرتی جارہی ہے،انہوں نے کہا کہ صوبہ مالی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے، صوبے کے پاس حکومت چلانے اور ترقیاتی کاموں کیلئے کوئی رقم موجود ہی نہیں ہے اور صوبے کے طول و عرض میں غریب عوام اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کاموں میں مصروف ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ مرکزی حکومت کے پاس صوبے کے آئینی حقوق اور بقایاجات دینے کیلئے حیلے بہانوں کے سیوا کچھ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ صوبے کے طول و عرض میں غریب عوام اگر ایک طرف ٹرانسفارمر زچندوں سے مرمت کررہے ہیں تو دوسری طرف کچہ اور پکہ روڈ بنانے کیلئے بھی اپنی مدد آپ کے تحت چندے اکھٹے کیے جارہے ہیں اور صوبائی حکومت اپنی آئینی اور جائز واجبات کیلئے مرکزی حکومت کے سامنے خاموش تماشائی ہے، انہوں نے کہا کہ عجیب منطق ہے کہ صوبے کے جائز واجبات کیلئے مرکزی حکومت پچھلے ایک سال سے ٹال مٹول سے کام لے رہاہے اور پی ٹی آئی کو فنڈنگ کرنے والے اور مالی طور پر سپورٹ کرنے والے سرمایہ داروں اور کارخانہ داروں کے قرضے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے معاف کرائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ قرضے معاف کرانا کونسی تبدیلی ہے؟ حکومت قرضوں کے معافی کے حوالے سے اپنا یہ فیصلہ واپس لیں،عوامی نیشنل پارٹی اس فیصلے کے خلاف اسمبلی کے اندر اور باہر ہر فورم پر آواز اُٹھائی گی اور حکومت کو اس اقربا ء پروری کے بنیاد پرکیے جانے والے فیصلے کو واپس کرنے پر مجبور کریگی۔