پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پنجاب کے شہر گجرات میں پختون شہری مسکین شاہ پر بہیمانہ تشدد اور قتل کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پختون دنیا بھر خصوصاً ملک کے ہر شہر میں قاتلوں کے نشانے پر ہیں لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں نے وحشی درندوں کو پختونوں کی ٹارگٹ کلنگ کیلئے لائسنس جاری کر رکھا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے الگ الگ پیغامات میں انہوں نے کہا کہ ملک دہشت گرد سٹیٹ بن چکا ہے،شہری دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے رحم و کرم پر ہیں،انہوں نے مقتول مسکین شاہ کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مغفرت کیلئے دعا کی اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ 
دریں اثنا ایمل ولی خان نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے قبائلی عوام کیلئے نا مناسب الفاظ کا استعمال کر کے اپنی پست ذہنیت کا ثبوت دے دیا ہے، سرکاری تنخواہ دار ملازم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف اور امن کے قیام کیلئے گھر بار کی قربانیاں دینے والے قبائلیوں کی عزت نفس مجروح کرے،انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری کا رویہ قابل افسوس ہے،صوبائی حکومت فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کر کے قبائلیوں کے زخم پر مرہم رکھے۔
کابل میں ہونے والی بدترین انسانیت سوز کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے معصوم بچوں اور خواتین سمیت درجنوں افراد کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کابل میں شادی کی تقریب کے دوران خود کش دھماکہ بربریت کی مثال ہے،جس پر دل خون کے آنسو رو عہا ہے،خفیہ ہاتھ اپنے مذموم مفادات کی خاطر امن کے کامیابی کی جانب بڑھتے سفر کو روکنا چاہتے ہیں، ایمل ولی خان نے کہا کہ مذاکراتی عمل کی کامیابی خطے میں امن کی کنجی ہے اور ایسے وقت میں دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی جاری جنگ کو مزید طول دے سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز امن عمل کیلئے بات چیت کا عمل یکسوئی سے مکمل کریں تاکہ خطہ دہشت گردی کے ناسور سے پاک ہو سکے، انہوں نے کہا کہ دونوں ملک بداعتمادی کا خاتمہ کر کے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاروائی کریں۔