2019 August افغان امن مذاکرات میں افغانستان حکومت کی غیرموجودگی تشویشناک ہے، میاں افتخارحسین

افغان امن مذاکرات میں افغانستان حکومت کی غیرموجودگی تشویشناک ہے، میاں افتخارحسین

افغان امن مذاکرات میں افغانستان حکومت کی غیرموجودگی تشویشناک ہے، میاں افتخارحسین

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ افغان امن مذاکرات تقریباً حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں، قطر میں جاری مذاکرات کے دور کے بعد پاکستان میں سہ فریقی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا جاچکا ہے جو خوش آئند ہے لیکن اس عمل سے افغانستان حکومت کو علیحدہ رکھنا اس خطے کی آگ کو مزید بڑھاوا دے گی۔ افغانستان امن عمل کو کشمیر سے جوڑنا پاکستان سمیت پورے خطے کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔ صوابی میں پارٹی رہنما اور سابق ایم پی اے محمد شعیب خان کی تیسری برسی پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات میں دونوں فریقین کو بٹھانا ہوگا، ایک فریق کو نظرانداز کرنا اس عمل کو ناکام بنائے گی۔ یہ خطہ گذشتہ چالیس سال سے آگ میں جل رہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ اس آگ کو بجھایا جائے اور امن مذاکراتی عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرایا جائے۔ کشمیر بارے پاکستان کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ کشمیر کا سودا ٹرمپ، مودی اور عمران نے کرلیا ہے، کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کو کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں جس کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل ہونا چاہیئے۔ عمران خان آج جو بیانات کشمیر کے بارے میں دے رہا ہے یہ محض ایک دکھاوا ہے، اصل میں دورہ امریکا کے دوران سب کچھ طے ہوچکا تھا۔ ہم آج بھی کشمیر میں ظلم کے خلاف ہیں اور رہیں گے۔ کشمیر میں حالات ویسے نہیں جیسے بھارتی حکمران بتارہے ہیں،کانگریس رہنما راہول گاندھی کو کشمیر جانے سے روکنا ثابت کرتا ہے کہ وہاں ظلم ہورہا ہے اور اس ظلم کے خاتمے کے لئے کشمیریوں کے خواہشات کے مطابق اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ افغانستان میں جاری جنگ بارے بات کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ محمد شعیب کی شہادت ان کارکنان کی قربانیوں کا ایک حصہ ہے جو افغان جنگ کی وجہ سے ہم سے جدا ہوئے تھے۔ پارٹی رہنمائوں کو دھمکیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم امن کا مطالبہ کرتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر کریں گے اس لئے ان سے برداشت نہیں ہورہا اور ہم نشانہ بن رہے ہیں۔موجودہ افغان امن مذاکرات خوش آئند ہے، اگر اس بار کسی بھی جانب سے دھوکہ کیا گیا تو آگ مزید پھیلے گی انہوں نے مطالبہ کیا کہ سہ فریقی اجلاس میں اگر افغان مذاکرات بارے حتمی فیصلہ متوقع ہے تو افغانستان حکومت کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جائے

شیئر کریں