پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ 90دن میں کرپشن ختم کرنیوالوں نے 900دنوں میں کرپشن کے ریکارڈز توڑ دیے۔نام نہاد صادق اور امین کے دورحکومت میں کرپشن بڑھتی چلی جارہی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ درجہ بندی میں پاکستان کی تنزلی سے متعلق جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے کہا ہے کہ وسروں پر کرپشن کے بے جا الزامات لگانے والوں میں تھوڑی سی حیاہو تو فوری مستعفی ہوجانا چاہئیے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے ہمارے موقف کی تائید کی کیونکہ یہاں احتساب نہیں سلیکٹڈ احتساب جاری ہے۔ نیب احتساب نہیں سیاسی انتقام کا ادارہ ہے۔صادق اور امین کے دورحکومت میں پاکستان کرپشن میں مزید چار درجے نیچے چلا گیا لیکن نیب کو حکومتی کرپشن نظر ہی نہیں آرہی۔

اسفندیارولی خان نے کہا کہ ترجمانوں کا ہجوم اب بھی عوام کو ماموں بنانے کی کوشش کررہے ہیں، عوام اب جاگ چکے ہیں۔کوئی نیا منصوبہ نہیں لیکن کرپشن بڑھتی چلی جارہی ہے، کیا یہ نااہلی نہیں تو اور کیا ہے؟۔اگر یہ مسلط حکمران رہے تو وہ دن دور نہیں کہ پاکستان 124سے 180نمبر تک کا سفر طے کرے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر پاناما کیلئے جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو کرپشن بڑھنے کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیے۔دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والے اب بھی ذمہ دار پچھلی حکومتوں کو ٹھہرارہے ہیں،شاید یہ انکی عادت بن چکی ہے۔عوام کو خود ان نااہلوں کے خلاف نکلنا ہوگا، یہ کرپٹ، نااہل ، ناکام ، نالائق اورناجائز حکمران ہیں۔