پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے قومی اسمبلی سے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر قبائلی اضلاع کے عوام کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ ترمیم کی منظوری خیبر پختونخوا میں قبائلی اضلاع کے انضمام کی جانب اہم قدم ہے۔ولی باغ چارسدہ میں نجی تی وی سے بات چیت کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ بل کی منظوری نیک شگون ہے البتہ اس کی ٹائمنگ پر شکوک و شبہات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا ، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو ماضی میں کٹھن حالات اور سنگین محرومیوں کا سامنا رہا ہے، اس اہم آئینی ترمیم کی منظوری سے نہ صرف قبائلی عوام کا احساسِ محرومی ختم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ انہیںدرپیش عدم توجہی کا خاتمہ بھی ممکن ہوپائے گا، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی اسمبلی میں نشستوں میں اضافہ اے این پی کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے تاہم بہتر ہوتا اگر انتخابی شیڈول سے قبل بل پاس کر لیا جاتا اور انتخابات وقت پر ہو جاتے ، انہوں نے کہا کہ اب گیند الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ہے اور الیکشن کمیشن پر قبائلی انتخابات جلد از جلد کرانے کے حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مقررہ وقت پر الیکشن نہ کرائے گے تو پھر قبائلی عوام ہمیشہ اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے ترستے رہیں گے جس کی تمام ذمہ داری حکومت اور مقتدر قوتوں پر عائد ہوگی،انہوں نے کہا کہ رواں سال بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا جائے گا اب الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ اس وہ اس حوالے سے پیش رفت کا آغاز کرے اور بلدیاتی الیکشن کے ساتھ ساتھ حلقہ بندیوں کا کام مکمل کر کے قبائلی اضلاع میں الیکشن کیلئے شیڈول جاری کر دے، اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں سے احساس محرومی کا شکار قبائلی عوام کو بنیادی ضروریات اور وسائل کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے ،وفاق اور صوبوں کے ذمہ قبائلی اضلاع کے حصہ بھی ملنے چاہئیں تاہم ان سب سے اہم پائیدار امن کا قیام اور قبائلی عوام کی عزت نفس کی بحالی ہے، انہوں نے کہا کہ روس امریکہ جنگ کے بعد پاکستان کی ناکام خارجہ و داخلہ پالیسیوں کا منفی اثر قبائلی عوام پر پڑا جس کے باعث لاکھوں غیور قبائلی آج اپنے گھر بار سے محروم ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور انہیں قومی مفاد کے پیش نظر تشکیل دیا جائے۔