پشاور( نیوزرپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے یوم شہداء پر پولیس کی تاریخی کردار پرپولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف تاریخی اور حقیقی قربانیاں دی ہیں جنہیں یاد رکھا جائیگا۔ ایسے حالات میں جب ہر طرف خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی اور صوبے میں طالبان یا شدت پسندوں کے نام پرمساوی حکومت قائم کی جارہی تھی، ایسے حالات میں پولیس نے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس مٹی کو شدت پسندوں سے نجات دلائی۔ اس کھٹن راستے پر ہزاروں جانیں قربان کی گئیں اور امن کی خاطر پولیس افسران ، جانباز سپاہیوںکے ساتھ ساتھ عوام نے قربانیاں دی اور انہی قربانیوں کے نتیجے میں امن نے ایک بار پھر لوٹ آیا۔اسفندیارولی خان کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں اے این پی سمیت دیگر امن پسند قوتوں نے لازوال قربانیاں دی ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک میں ایسی حکومت قائم کردی گئی ہے جنہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بجائے عارضی جنگ بندی کی ہے، ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر من و عن عملدرآمدکیا جائے تاکہ حقیقی معنوں میں دہشتگردی کا قلع قمع کیا جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی، پختون قوم ، خیبرپختونخوا پولیس بالخصوص اور پاکستان بالعموم دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں اور یہ قربانیاں ہم رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ملک میں مسلط شدہ حکومت میں شدت پسندی اور انتہاپسندی کے حمایتی لوگ بڑے کرسیوں پر براجمان ہیں۔ انتخابات سے پہلے اور بعد میں وفاقی وزراء نے کھل کر شدت پسندوں کی حمایت کی لیکن حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر حکومتی وزراء اس قسم کی سوچ کو آگے بڑھائیں گے تو امن کے لئے اٹھایا گیا ہر قدم شاید ناکامی سے دوچار ہوگا۔اسفندیارولی خان نے مزید کہا کہ ہم پارٹی کی طرف سے امن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں کیونکہ آج اگر کسی بھی شکل میں امن قائم ہے تو انہی قربانیوں کی بدولت ہم سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔