2019 April خیبر پختونخوا میں اربوں کی کرپشن پر نیب کی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے، سردار حسین بابک

خیبر پختونخوا میں اربوں کی کرپشن پر نیب کی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے، سردار حسین بابک

خیبر پختونخوا میں اربوں کی کرپشن پر نیب کی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے، سردار حسین بابک

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ چھ سال تک صوبے میں کرپشن اور لوٹ مار کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں اور حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ پشاور کے ضلعی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ پارٹی کی تنظیمیں کسی بھی سیاسی جماعت کی بنیاد پر ہوتی ہیں،انہوں نے کہا کہ باچا خان طبقاتی نظام کے خلاف تھے اور اے این پی نے ہمیشہ اس نطام کے خلاف آواز اتھائی ہے، موجودہ سیاسی صورتھال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور تمام پارٹی عہدیدار و کارکن اس حوالے سے اپنی تیاریاں شروع کر دیں ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں تحریک انصاف کی ھکومت کی طرف سے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر صوبے میں مقامی حکومتوں کے الیکشن ہوئے ، جس میں ہم نے30فیصد فنڈ نچلی سطح تک منتقل کرنے کا قانون بنایا ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چار سال تک ان مقامی حکومتوں کو15فیصد بھی ادا نہیں کیا گیا،انہوں نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ چھ سال سے کرپٹ مافیا سرگرم ہے، اور ذاتی مفادات کی خاطر قومی وسائل لوٹے جا رہے ہیں،سردار حسین بابک نے کہا کہ وزیر اعظم نیازی سالہا سال 15ارب روپے روزانہ چوری ہونے کا الزام لگاتے رہے جو گزشتہ آٹھ ماہ سے بند ہو گئی ہے اب انہیں بتانا چاہئے کہ کتنے ارب روپے بچائے ہیں ، انہوں نے کہا کہ46روپے لیٹر پٹرول دینے والا وزیر خزانہ آج خود گھر چلا گیا ہے جو اس حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم کی کھال اتارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی صوبے میں بد انتظامی عروج پر ہے، سینئر ڈاکٹر مستعفی ہو رہے ہیں جبکہ پیرا میڈیکس اور ایل ایچ ویز سمیت تمام طبقے کے لوف سراپا احتجاج ہیں ، سردار بابک نے کہا کہ مدینہ کی ریاست بنانے والے آج ہول سیل پر کرپشن میں مصروف ہیں،،بلین سونامی ٹری اور بی آر تی میں اربوں روپے لوٹ لئے گئے لیکن بدقسمتی سے نیب کی آنکھوں میں موتیا اترا ہوا ہے اور اسے سیاسی مخالفین خے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ پشاور کو بی آر ٹی کی ضرورت ہی نہیں تھی پشاور کی بین الاقوامی شاہراہ کا بیڑا غرق کر دیا گیا جس سے تجارت اور تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں پختونوں کے مفادات کی جنگ لڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں بھی اے این پی نے دی ہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی قبائلی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی ،اور اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گی ، انہوں نے باجوڑ میں دفعہ144کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اسفندیار ولی خان کے باجوڑ جلسہ کے اعلان کے بعد حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی جس کی وجہ سے دفعہ144کا اعلان کیا گیا لیکن اے این پی کے کارکن اور باچا خان کے سپاہی کسی بھی رکاوٹ کو تسدلیم نہیں کریں گے،۔

 

شیئر کریں