عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ قبائلی انضمام کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا حکومتی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں جماعت اسلامی کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز قبائل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انضمام کے باوجود تاحال اصلاحات میں پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی اور حکومت نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے افغانستان جانے والے تمام تجارتی راستے کھول کر برآمدات میں اضافہ کے ساتھ بے روزگاری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے لیکن حکمران اس معاملے میں غیر سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے سے قبل قبائلی علاقوں میں دہشت گردی و آپریشنز سے تباہ ہونے والی ذاتی املاک کی تعمیر اور اربوں روپے کے نقصانات کا ازالہ ضروری تھا تاہم بدقسمتی سے حکومت نے اپنی اس ذمہ داری سے غفلت برتی اور پنجاب کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا،سردار حسین بابک نے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں سے بے گھر افراد کی فوری اور باعزت واپسی یقینی بنائی جائے اور عنقریب ہونے والے قبائلی علاقوں کے انتخابات کیلئے صوبائی حلقوں کی تعداد میں اضافہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم کے دوران سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن کی تیاری کیلئے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں،انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کام صوبائی محکموں کے زیر انتظام شروع کرنے کے ساتھ ساتھ جوڈیشل نظام کیلئے ہر قبائلی ضلع میں ججوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر میں رہائش اور دفاتر کا قیام ،نویں این ایف سی ایوارڈ کا اجرا اور اس میں قبائلی اضلاع کیلئے 3فیصد حصہ یقینی بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ مائنز کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور لوگ معذور ہو رہے ہیں جس کی روک تھام کیلئے کوئی تھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی طویل عرصہ سے مائنز کی صفائی کا مطالبہ کرتی آ ئی ہے تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے ،سردار بابک نے مزید کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ نئے اضلاع میں موبائل فون سروس کا آغاز اور انٹر نیٹ سروس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ،انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نظر نہیں آئی اور صوبے میں کالعدم تنظیمیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، انہوں نے ان تمام تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی و قبائلی عوام کو سہولیات کی بلا روک ٹوک فراہمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ قبائلی عوام کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔