عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ خطے میں بسنے والے پختون ریاستی اداروں کی آنخھ میں کھٹک رہے ہیں اور پختونوں کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک ہمیں غلام بنانے کی سازش کا حصہ ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاکنڈ بدرگہ مین اے این پی کی ضلعی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ پختونوں کو اپنے وسائل پر اختیار کیلئے باہمی اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے اور اسفندیار ولی خان کی قیادت میں تمام پختون ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں ، انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے ہمارے تعلیمی ادارے اور صحت مراکز تباہی کے دہانے پر ہیں ، انہوں نے بونیر میں پولیو ٹیم کے ساتھ پولیس اہلکار کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں شہادت پر بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکمرانوں کی غفلت کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان ایٹمی قوت بھی ہے لیکن نا اہلی کی حد یہ ہے کہ حکمران پولیو کی ایک ویکسین تک بنانے کے قابل نہیں ، انہوں نے پولیو مہم کے خلاف جاری پراپیگنڈے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ دشمنوں کی چال ہے اور ہمارا دشمن اب کسی بھی طرح ہماری آنے والی نسلوں کو اپاہج اور معذور کرنا چاہتا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے پوری طرح غفلت کا مظاہرہ کیا ایک خیراتی ویکسین کا ٹمپریچر تک درست نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی پولیو ٹیموں کو ٹریننگ دی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ قبائلی انتخابات کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے ،انہوں نے خبردار کیا کہ قبائلی انتخابات میں25جولائی18ءکا رول ادا کیا گیا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے ، انہوں نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے پیروکار ہیں اور ہمیں تشدد پر مجبور نہ کیا جائے