عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان صدرالین مروت نے کہا ہے کہ وزیرستان کے بے گھر ہونے والے قبائلی عوام طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کیمپوں میں مقیم ہیں اور ان کی با عزت واپسی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ، صوبائی صدر ایمل ولی خان کی ہدایت پر مرکزی نائب صدر باز محمد خان کے ہمراہ قبائلی علاقوں میں رابطہ عوام مہم کے دوران شمالی وزیرستان میں مختلف اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیر تاحال تاخیر کا شکار ہے جبکہ عوام کی اکثریت مختلف مسائل کا سامنا کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مداخیل قبیلہ کی آبادی 45ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور ابھی تک کیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ نظام کی سست روی کے باعث دس ہزار افراد کی رجسٹریشن تک مکمل نہیں ہو سکی،انہوں نے کہا کہ سروے میں غلط بیانی سے کام لیا جا رہا ہے اور تباہ شدہ مکانات و کاروباری مراکز کے تخمینہ میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے،صدرالدین خان نے مطالبہ کیا کہ ازسرنو سروے کر کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق متاثرین کو ادائیگی کی جائے،انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود برائے نام معاوضوں کی اداگئیگی میں بھی لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ غلام خان سرحد بند ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے جس کے باعث تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے، صوبائی ترجمان نے کہا کہ تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھولا جائے۔