لاء اینڈ آرڈر کے سنگین معاملے پر بھی حکومتوں نے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے

پختونوں کو سازش کے تحت دیوار سے لگایا جارہا ہے جو ناقابل برداشت ہے

ان واقعات کے ساتھ ساتھ پختونوں کے لاپتہ کرنے یا ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے

عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے آئینی تقاضے اور حکومتی دعوے بے نقاب ہوگئے ہیں

حقوق اور تحفظ کے حصول کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپناکردار ادا کرنا ہوگا

پرامن ماحول بنانے کیلئے موجودہ حکومتیں سب سے بڑی رکاوٹ ہے

عوام کے مینڈیٹ کو چرانے اور ڈاکہ ڈالنے کے یہی نتائج برآمد ہوتے ہیں

ولی باغ میں پارٹی کارکنان سے خطاب

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبے کے طول وعرض میں ٹارگٹ کلنگ،اغواء برائے تاوان،ڈکیتیوں اور بھتہ وصولی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن اس سنگین معاملے پر صوبائی و مرکزی حکومتوں نے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے،بونیر میں پولیو ورکر،پشاور حیات آباد میں ڈکیتی کے دوران طالبعلم کے قتل اور صوبے میں حالیہ رونما ہونے والے واقعات نے ثابت کردیا کہ پختونوں کو سوچے سمجھے سازش کے تحت دیوار سے لگایا جارہا ہے جو کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں ہے۔ولی باغ چارسدہ میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ خوف اور بدامنی کے ماحول سے زندگی مشکل تر بنادی گئی ہے،اگر ایک طرف صوبے کے طول وعرض میں ٹارگٹ کلنگ،اغواء برائے تاوان،ڈکیتیوں کے وارداتوں کے نتیجے میں پختون مررہے ہیں تو دوسری طرف پختون افسران کے لاپتہ کرنے یا ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے،جو کسی صورت عوامی نیشنل پارٹی کو قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کو مجبور نہ کیا جائے کہ حکمرانوں کے کرپشن کے تحقیقات کے ساتھ ساتھ پختونوں کی بقاء کی خاطر مزاحمت سے ایک قدم آگے بڑھے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے آئینی تقاضے اور حکومتی دعوے بے نقاب ہوگئے ہیں،پختونوں میں احساس کمتری اور احساس محرومی بڑھتی جارہی ہے،حقوق اور تحفظ کے حصول کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپناکردار ادا کرنا ہوگا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبے میں پرامن ماحول بنانے کیلئے موجودہ حکومتیں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس کی بنیادی وجہ کپتان کے ارد گرد گھومنے والے وہ وزیر اور مشیر ہے جو کالعدم تنظیموں کی سپورٹ کی وجہ سے آج اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کو چرانے اور ڈاکہ ڈالنے کے یہی نتائج برآمد ہوتے ہیں، اگر آج اسمبلیوں میں کالعدم تنظیموں اور مقتدر قوتوں کے نمائندوں کی بجائے عوامی نمائندے بیٹھے ہوتے تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔انہوں نے مزید کہا کہ دن دیہاڑے ڈکیتیوں اور بھتہ وصولی کیلئے فون کالز معمول بن گئے ہیں،اسی طرح دن دیہاڑے اُن پختونوں کو بھی غائب کیا جارہا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں پختونوں کی آواز اٹھاتے ہیں،اگر یہ سلسلہ نہ رُکا تو پختون علاقوں میں اٹھنے والی چنگاری کسی بھی وقت شعلہ بن کر سب کچھ راکھ کردیگی۔