عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہاہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی باتیں کرنے والے قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا اور ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، آئین کو متنارعہ بنایا گیا توملک بچ نہیں سکے گا، موجودہ حکومت کے دور میں ملک اور آئین کو خطرات لاحق ہیں ، گزشتہ انتخابات کے نتیجہ میں ملک میں بہتری آنے کی بجائے مزید ابتری آئی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام کا مقصد ٹیکنوکریٹس کی حکومت لانا جس کی طرف حکومت چل پڑی ہے،انہوں نے کہا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت میںپاکستان کے عوام کی نمائندگی ہوگی نہ ان کی بات سنی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکمران مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے جس کو ہانک کر ایک پارٹی میں جمع کردیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال مخدوش ہے۔سیاست یرغمال ہے اور پالیسی ساز ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے عوام کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ جس طرح صدارتی نظام کیلئے مہم چلائی جا رہی ہے اس سے یہ واضح ظاہر ہو رہا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے کسی ناکسی کا ہاتھ ضرور ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے مہربان اسے گزشتہ آٹھ ماہ سے انگلی پکڑ کر چلا رہے ہیں تاہم حکمرانوں کی کارکردگی سے پوری قوم مایوس ہو چکی ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازش اور صدارتی نظام کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کرے گی۔