عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے گزشتہ روز پولیو ویکسین کی وجہ سے بچوں کی حالت غیر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کر کے محرکات سامنے لائے جائیں، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کی ذمہ داری حکومت نے لی ہے تو اسے شفاف طریقے سے نبھانے کی ذمہ داری بھی پوری کرے، انہوں نے کہا کہ غفلت کا مظاہرہ بہر ھال ہوا ہے اور حکومت کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی مذید تحقیقات کرائے ، انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پر تنقید نہیں کرتے لیکن واقعے کو افواہ کا نام دے کر اس سے بری الذمہ نہیں ہوا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ یہ صرف پشاور میں نہیں بلکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں بچوں کو حالت غیر ہونے پر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، انہوں نے کہا کہ ملوث محرکات کو سامنے لانے کیلئے ہنگامی طور پر تحقیقات کرائی جائیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ پولیو ویکسین زائد المیعاد ہو سکتی ہے یا دوسری صورت میں اسے مناسب ٹیمپریچر پر نہیں رکھا گیا جسے چیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،میاں افتخار حسین نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ اس واقعے میں دہشت گردی کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے ،ممکن ہے کہ اوپر کی سطح پر ساز باز کر کے ویکسین میں ملاوٹ کی گئی ہو،انہوں نے کہا کہ حکمران غیر ضروری مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز سانحات رونما ہو رہے ہیں،انہوں نے ایک بار کہا کہ حکومت پر اس حوالے سے تنقید کرنے سے دہشت گردوں اور منظم سازش کرنے والوں کو تقویت مل سکتی ہے لہٰذا حکومت جلد از جلد اس کی تحقیقات کرائے ، انہوں نے کہا کہ پرانی ویکسین کا تمام سٹاک ضائع کر کے نئی ویکسین کا استعمال کیا جائے کیونکہ پولیو خاتمے کے بغیر ہمارے ملک کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو سکتا ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ معاملے کو سرد خانے کی نذر کرنے سے عوام کا پولیو مہم پر سے اعتماد اٹھ جائے گاجو ملک کیلئے تشویش کا باعث ہو گی،انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بچوں کو پولیو ویکسینیشن کیلئے ٹرینڈ سٹاف بھرتی کیا جائے اور ان پڑھ و ان ٹرینڈ لوگوں کے ذریعے قطرے پلانے کی پالیسی سے اجتناب کیا جائے۔