عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وزرا ء کی تبدیلی سے ثابت ہو گیا ہے کہ عمران خان کی ٹیم نا اہل ہے ،8ماہ سے جاری احتساب سے کچھ ہوا نہ ہوگا ،چہرے بدلنے کی نہیں بلکہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے ،سرائیکی زون میں انٹرا پارٹی الیکشن کے سلسلے میں داؤد خان اچکزئی،منظور احمد خان اور عمر خان گردیزی کے ہمراہ ملتان روانگی سے قبل انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی ٹیم کو خود نا اہل کہ دیا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نا اہل لوگوں کو چننے والا خود نا اہل ہے اور ملک چلانے کے قابل نہیں ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وزراء کی چھٹی کر کے جن لوگوں کو وزارتیں دی گئیں ان میں سے بیشتر ٹیکنو کریٹ اور باقی دیگر جماعتوں سے آئے ہوئے ہیں،جن جماعتوں کو چور کہا گیا انہیں کے لوگوں کو حالات سدھارنے کیلئے وزارتیں دے دی گئیں، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے بقول انہیں نا اہل لوگوں کو بدلنے کا اختیار ہے اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ انہوں نے نا اہل لوگوں کو وزارتیں حوالہ کیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اب دیکھنا ہو گا کہ اس حکمنامے کی ڈور کہاں سے ہلائی جا رہی ہے،سری لنکا میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسٹر جیسے مذہبی تہوار پر عیسائی برادری کی عبادت گاہوں پر حملے قابل مذمت ہیں ، دہشت گردی دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو اے این پی اس کی مذمت کرتی ہے ، انہوں نے کہا کہ چرچ و ہوٹلوں پر حملے کر کے بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے در اصل انسانیت کے دشمن ہیں اور اپنے گھناؤنے و مذموم مقاصد کیلئے قیمتی انسانی جانیں لے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم سری لنکن عوام اور حکومت کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کا انٹرا پارٹی الیکشن تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور بروز پیر ملتان میں سرائیکی بیلٹ کے انتخابات کے بعد چاروں صوبوں و سرائیکی کی تنظیمیں مکمل ہو جائیں گی جبکہ2مئی کو مرکزی الیکشن کا انعقاد کیا جائے گا۔