عوامی نیشنل پارٹی کے نو منتخب مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی میں عہدیداروں کا چناﺅ سلیکشن سے نہیں بلکہ الیکشن کے ذریعے ہوتاہے ، اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ اے این پی کے اندر باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ دیگرجماعتوں میں اوپرسے نامزدگی کی جاتی ہے، انتخابی عمل کو گروپ بندی کانام دیناغلط ہے یہ مقابلہ ہے جو جمہوری عمل کہلاتاہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پارٹی کی مرکزی کونسل کے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی کابینہ کا انتخاب بھی عمل میں آیا ، میاں افتخار حسین نے بطور مرکزی الیکشن کمیشن چیئرمین چاروں صوبوں بشمول سرائیکی یونٹ میں تنظیم سازی کے عمل کی تفصیلی رپورٹ پیش کی، مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر انہوں نے کونسل ممبران کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دوسری بار جنرل سیکرٹری بننے کے بعد ماضی کی طرح مستقبل میں بھی پارٹی کی فعالیت اور عوامی خدمت کا شعار اپنائے رکھوں گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچے کی حامل جماعت ہے جس کی تنظیمی بنیاد کارکنوں کی رائے پر مبنی جمہوری طریقہ کار پر قائم ہے اور قیادت کے انتخاب کا اختیار کلی طور پر کارکنوں اور نچلی تنظیموں کے پاس ہے۔ پارٹی اپنے قیام اور اس سے قبل کئی دہائیوں تک حکومتوں کے منفی رویوں اور دیگر رکاوٹوں کا شکار رہی تاہم اس کے باوجود اس کو پاکستان کی سیاسی قوتوں کی فہرست میں جمہوریت پسند پارٹی کا مقام حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ نئی تنظیم سازی کے تحت پورے ملک میں نیا تنظیمی ڈھانچہ مکمل ہوگیا ہے، عوامی نیشنل پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے جس میں عہدیداروں کے انتخاب کے لئے تمام ترجمہوری تقاضے پورے کئے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اے این پی اگرجمہوریت کے لئے جدوجہد کررہی ہے تو اس میں جمہوریت موجود ہے دیگرسیاسی جماعتوں کوبھی جمہوری سوچ لیکرکام کرناچاہئے۔ انہوں نے مرکزی الیکشن کمیشن کے تمام ممبران ، پارٹی عہدیداروں و کارکنوں کو بھی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ سب نے مل کر مقررہ وقت کے اندر تنظیم سازی کے عمل کو کامیابی سے مکمل کرایا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی میں انٹراپارٹی الیکشن کاعمل عہدیداروں کے انتخاب کااختیارکارکنوں کودیاگیاہے۔ اورکارکن اپنے مرضی کے مطابق عہدیداروں کومنتخب کرتے ہیں جبکہ اسمبلی کے لئے کسی بھی امیدوار کی نامزدگی کااختیاربھی ان کارکنوں کے پاس ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی عہدیداروں کا چناﺅ جمہوری تقاضے پورے کرتے ہوئے کرتی ہے ۔