عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے کہا ہے اے این پی ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچے کی حامل جماعت ہے جس کی تنظیمی بنیاد کارکنوں کی رائے پر مبنی جمہوری طریقہ کار پر قائم ہے اور قیادت کے انتخاب کا اختیار کلی طور پر کارکنوں اور نچلی تنظیموں کے پاس ہے۔ پارٹی اپنے قیام اور اس سے قبل کئی دھائیوں تک حکومتوں کے منفی رویوں اور دیگر رکاوٹوں کا شکار رہی تاہم اس کے باوجود اس کو پاکستان کی سیاسی قوتوں کی فہرست میں جمہوریت پسند پارٹی کا مقام حاصل ہے،عوام کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ نئی تنظیم سازی کے تحت پورے ملک میں نیا تنظیمی ڈھانچہ تقریبا مکمل ہوگیا ہے جس کے لئے مرکزی، صوبائی، ضلعی، تحصیل و یونین کونسل کی سطح پر الیکشن کمیشن نے دن رات کام کیا اور دو مئی کو آخری یعنی مرکزی الیکشن کا انعقاد کیا جارہا ہے جس کے بعد چارسال کے لئے تنظیمی ڈھانچہ مکمل ہوجائیگا اور عوامی نیشنل پارٹی اپنی سیاسی سرگرمیاں زوروشور سے شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی الیکشن کمیشن نے انتہائی مخلصانہ انداز میں تنظیموں کی تشکیل کا عمل شروع کیا اور اس سلسلے میں10اپریل کو خیبر پختونخوا کی کابینہ منتخب کر لی گئی ، جس کے بعد دیگر صوبوں کا رخ کیا گیا اور اگلے مرحلے میں12اپریل کو اے این پی پنجاب کا کابینہ کا انتخاب ہوا، سندھ کی تنظیم14اپریل کو مکمل کی گئی ،بلوچستان 17اپریل جبکہ سرائیکی یونٹ میں اے این پی کی کابینہ کا انتخاب 22اپریل کو کرنے کے بعد چاروں صوبوں اور سرائیکی بیلٹ میں تنظیمیں مکمل کر لی گئیں،انہوں نے کہا کہ مرکزی انتخابات2مئی کو باچا خان مرکز پشاور میں ہونگے جس کے بعد تمام تنظیمیں آئندہ چار سال کیلئے اپنی سرگرمیاں بھرپور انداز میں شروع کر دیں گی،انہوں نے اس ٹاسک کے دوران تمام الیکشن کمیشن ممبران کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اے این پی اس بات کی حامی ہے کہ پارٹیوں کے اندر جمہوریت سے جمہوری اور سیاسی نظام کے مزید استحکام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں اس لیے پارٹیاں اس ضرورت پر خصوصی توجہ دیں۔