عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی میں عہدیداروں کا چناؤ سلیکشن سے نہیں بلکہ الیکشن کے ذریعے ہوتاہے ، اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ اے این پی کے اندر باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ دیگرجماعتوں میں اوپرسے نامزدگی کی جاتی ہے، انتخابی عمل کو گروپ بندی کانام دیناغلط ہے یہ مقابلہ ہے جو جمہوری عمل کہلاتاہے ،باچا خان مرکز میں صوبائی کونسل کے اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے صوبے کی نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ نئی منتخب کابینہ پارٹی کی فعالیت اور عوامی خدمت کیلئے ہمہ وقت تیار رہے گی ، انہوں نے امیر حیدر خان ہوتی کو ان کے دور صدارت پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے جس میں عہدیداروں کے انتخاب کے لئے تمام ترجمہوری تقاضے پورے کئے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اے این پی اگرجمہوریت کے لئے جدوجہد کررہی ہے تو اس میں جمہوریت موجود ہے دیگرسیاسی جماعتوں کوبھی جمہوری سوچ لیکرکام کرناچاہئے۔ انہوں نے صوبائی الیکشن کمیشن ، ضلعی الیکشن کمیٹیوں ، پارٹی عہدیداروں و کارکنوں کو بھی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ سب نے مل کر مقررہ وقت کے اندر تنظیم سازی کے عمل کو کامیابی سے مکمل کرایا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی میں انٹراپارٹی الیکشن کاعمل عہدیداروں کے انتخاب کااختیارکارکنوں کودیاگیاہے۔ اورکارکن اپنے مرضی کے مطابق عہدیداروں کومنتخب کرتے ہیں جبکہ اسمبلی کے لئے کسی بھی امیدوار کی نامزدگی کااختیاربھی ان کارکنوں کے پاس ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی عہدیداروں کا چناؤ جمہوری تقاضے پورے کرتے ہوئے کرتی ہے ۔