پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ صرف نو مہینوں میں کابینہ کے ردوبدل نے ثابت کردیا کہ حکومت چلانا کپتان کے بس میں نہیں۔ا پنی ٹیم کی ہر جگہ تعریف کرنے والے کپتان نے اپنے ہی ساتھیوں بارے یوٹرن لیکر انہیں نااہل ثابت کردیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی تعریفیں کرتے ہوئے کپتان نہیں تھکتا تھا اور ہر جگہ انہیں رول ماڈل کے طور پر پیش کرتا رہا۔ ملکی صورتحال کا ملبہ پچھلے حکومتوں پر ڈالنے والے وزیراعظم نے انہی حکومتوں کے وزراء کو ساتھ ملالیا۔ اب حالات کی سنگینی کا ملبہ کس پر ڈالا جائیگا۔ باچاخان مرکز سے جاری کردہ ایک بیان میں میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ کپتان ہر جگہ اپنی وژن،ٹیم اور منصوبہ بندی کی تعریفیں کررہا ہوتا تھا، آج وژن نظر آرہی ہے نہ ہی منصوبہ بندی۔ ٹیم کی صلاحیت اب پوری قوم پرآشکارہ ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کا انحصار اب ٹیکنوکریٹس پر ہے، یہ وہی ٹیکنوکریٹس ہیں جو مشرف اور پیپلزپارٹی کابینہ کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والے کپتان نے انہی لوگوں کو ساتھ ملالیا جو ان کے بقول کرپٹ لوگوں کے ساتھی رہ چکے ہیں۔ اپنی ٹیم کو فارغ کرنے کے بعد اب بھی کپتان اس موڈ میں نہیں کہ مستقل مزاجی سے کام لیتے ہوئے ملک کے لئے نئی پالیسی مرتب کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ کپتان کے احتساب کے نعرے کھوکھلے ثابت ہوگئے۔ ایک وزیر جس نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیا تھا، ان کا احتساب کس نے کروایا؟ کیا وہ دودھ کا دھلا بن گیا کہ دوبارہ ان کو وزارت دی گئی؟ تبدیلی کے نام پر لوگوں کو کب تک دھوکہ دیتے رہیں گے۔کپتان نے اپنی حکومت بچانے کے لئے ان لوگوں کو کابینہ کا حصہ بنایا جو دوسری ٹیم میں پہلے ہی کھیل چکے ہیں جبکہ اپنے کھلاڑیوں اور پارٹی ورکرز کو سائیڈ لائن کردیا۔ میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ ملک میں کوئی بھی پالیسی مستقل نہیں، ملک کے اندر بے چینی کی کیفیت ہے، مہنگائی آسمان کو چھورہی ہے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خطرناک نہج پر پہنچ چکے ہیں، ملک میں نہ ہی خارجہ پالیسی نظر آرہی ہے اور نہ ہی کوئی اندرونی پالیسی۔کپتان کو اب اس بات کا احساس ہونا چاہئیے کہ ان کا مزاج اپوزیشن کے لئے بنا ہے نہ کہ حکومتی معاملات چلانے کے لئے۔ عمران خان نے ہمیشہ لوگوں پر الزامات لگائے، ان کو بے عزت کیا، آج جو کچھ ہورہا ہے یہ مکافات عمل ہے۔ کپتان یاد رکھیں، آج اگر کسی کی بے عزتی ہوگی تو کل ان کی حکومت جانے کے بعد انکے ساتھ بھی احتساب ہوگا۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ چہروں کی تبدیلی سے کوئی تبدیلی آنے والی نہیں، اگر تحریک انصاف حقیقیتبدیلی لانا چاہتی ہے تو کپتان کو گھر جانا چاہئیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ میں ایک بڑی تعداد غیرمنتخب افراد کو شامل کرنا غیرجمہوری روایات کا آغاز ہے۔ یہ اقدامات اصل میں اپنے منتخب افراد پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ کپتان ایک ڈکٹیٹر کی طرز پر حکومتی معاملات چلارہا ہے، اسی لئے ہم انہیں منتخب نہیں بلکہ سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ رہے ہیں جو کسی اور کے اشارے پر چل رہا ہے۔میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ غیر منتخب افراد کی بڑی تعداد کو کابینہ کا حصہ بنانے سے ثابت ہورہا ہے کہ کپتان صدارتی نظام کے چہ مگوئیوں کو عملی جامہ پہنانے کے مشن پر گامزن ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی صورت اس طرز حکومت کو تسلیم نہیں کرے گی اور اگر ملک میں عمران خان کو لانے والے لوگ صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ جمہوریت کی پاسداری اور اس کی حفاظت کرنے کے لئے اس ملک میں عوامی نیشنل پارٹی سمیت تمام جمہوری قوتیں ایک پلیٹ فارم پر متفق ہوں گی۔