عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اے این پی صدارتی نظام کے سخت خلاف ہے اور اسے رائج کرنے کیلئے کی جانے والی مذموم کوششوں کے خلاف مزاحمت کی جائے گی،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ در اصل صدارتی نظام لانے کا بنیادی مقصد چھوٹے صوبوں کو غلام اور پنجاب کو مائی باپ بنانے کی سازش ہے ، جسے ہم کسی طور قبول نہیں کریں گے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن اسے قیمت پر ناخدا تسلیم نہیں کیا جا سکتا، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ قائد اعظم کا پاکستان صرف اس لئے توڑا گیا تاکہ بنگالی کی حکومت آنے کا راستہ روک کر اسے پنجاب کی جھولی میں ڈالا جائے، انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام میں صدر تو پنجاب سے ہی ہو گا البتہ باقی تین صوبوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشیں زوروں پر ہیں اور کسی بھی قوت نے اسے چھیڑا تو ہم 1940کی قرارداد کی روشنی میں نئے عمرانی معاہدے کی بات کریں گے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کو مسند اقتدار تک اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کیلئے لایا گیا اور جب لولی لنگڑی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت اس میں ناکام نظر آئی تو ملک میں صدارتی نظام کی صدا بلند کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام شاید مخصوص مفادات کیلئے بہتر ہو تاہم ملک کیلئے یہ زہر قاتل ہے،انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم پنجاب سمیت کسی بھی صوبے سے آ سکتا ہے جس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکتی ہے جبکہ صدارتی نظام میں پنجابی صدر کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور یہی وجہ ہے کہ مخصوص مفادات کیلئے یہ بازگشت زیر گردش ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور اس کے پس پشت قوتیں اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشوں سے باز رہیں بصورت دیگر چھوٹے صوبے باہم اتفاق سے 1940 کی قرارداد پاکستان کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی بات کریں گے۔دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امن کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں اور حکومت کود کالعدم تنظیموں کو سپورٹ کر رہی ہے ، انہوں نے حیات آباد آپریشن میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہدا کے ورثا کو پنجاب کے برابر مالی پیکج دیا جائے اور اس کے ساتھ خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں بھی پنجاب پولیس کے برابر کی جائیں۔