عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے گزشتہ سال الیکشن سے قبل سانحہ یکہ توت پرجے آئی ٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہارون بلور شہید کے ساتھ اے این پی کے23دیگر کارکن بھی شہید ہوئے لیکن آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ اس معاملے پر بھی مٹی ڈال کر دفن کر دیا گیا ہے، قصہ خوانی شہداء کی یادگار پر پھول چڑھانے کے بعد اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک بچے کے مرنے پر جے آئی ٹی بنا دی جاتی ہے اور معمولی واقعات پر سوموٹو ایکشن لئے جاتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے سانحہ یکہ توت میں اتنے بڑے پیمانے پر شہادتوں کے باوجود کسی نے اس کا نام لینا بھی گوارا نہیں کیا، انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی صدارتی نظام کے سخت خلاف ہے اور اسے رائج کرنے کیلئے کی جانے والی مذموم کوششوں کے خلاف مزاحمت کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا بھائی ضرور ہے لیکن اسے قیمت پر ناخدا تسلیم نہیں کیا جا سکتا، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ قائد اعظم کا پاکستان صرف اس لئے توڑا گیا تاکہ بنگالی کی حکومت آنے کا راستہ روک کر اسے پنجاب کی جھولی میں ڈالا جائے، انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام میں صدر تو پنجاب سے ہی ہو گا البتہ باقی تین صوبوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشیں زوروں پر ہیں اور کسی بھی قوت نے اسے چھیڑا تو ہم 1940کی قرارداد کی روشنی میں نئے عمرانی معاہدے کی بات کریں گے، انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم پنجاب سمیت کسی بھی صوبے سے آ سکتا ہے جس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکتی ہے جبکہ صدارتی نظام میں پنجابی صدر کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور یہی وجہ ہے کہ مخصوص مفادات کیلئے یہ بازگشت زیر گردش ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور اس کے پس پشت قوتیں اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشوں سے باز رہیں بصورت دیگر چھوٹے صوبے باہم اتفاق سے 1940 کی قرارداد پاکستان کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی بات کریں گے۔