عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ مزدور کو اہمیت اور اسے ا±س کی محنت کا صلہ دیئے بغیر قومی تر قی کا حجم کسی صورت نہیں بڑھایا جا سکتا، عالمی یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ مزدور طبقہ ہی قومی معیشت کے بڑھاوے کااصل موجب ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں مزدور طبقے کو حکومتوں نے ہمیشہ ہر شعبے میںنظر انداز کیا،انہوں نے کہا کہ یکم مئی 1886 ءکو شکاگوکے شہداءنے عظیم قربانی دیکر ایک مثال قائم کر دی اس کے برعکس پاکستان میں حکمران مزدوروں کے استحصال میں مصروف ہیں ،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو بد انتظامی اور غلط معاشی پالیسیوں کے باعث کارخانوں کا قبرستان بنا دیا گیا جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے، انہوں نے کہا کہ جب تک صوبے کو بجلی و گیس پر سبسڈی دی جاتی رہی کارخانے چلتے رہے اور مزدوروں کے گھر بھی آباد تھے لیکن بعد میں نا عاقبت اندشی کی وجہ سے سبسڈی بند ہونے کی وجہ سے کارخانے بند جبکہ مزدور بے روزگار ہو گئے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ موجودہ دور میں مہنگائی کی وجہ سے مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور مہنگائی کے تناظر میں مزدور کی اجرت25ہزار کرنے کا اعلان کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کی گئی اور امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کر گیا،انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت اندسٹریز صوبوں کے زیر انتظام آ گئی تھیں جس کیلئے اے این پی نے اپنے دور حکومت میں چند سفارشات بھی پیش کیں لیکن بدقسمتی سے ان پر عمل درآمد نہیں ہوا اور صوبے کے بڑے کارخانے بشمول چارسدہ شوگر و پیپر ملز ،حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ،گدون امازئی اور حطار انڈسٹریل اسٹیٹ حکومت کی مزدور کش پالیسیوں کے باعث ختم ہو گئے ،انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا تھا کہ اس سب سے قطع نظر نئی انڈسٹریز پر توجہ دی جاتی آج بھی ہم وہیں کھڑے ہیں اور پرانے کارخانوں کی بندش و مزدور کی حسرت و یاس کو یاد کر رہے ہیں ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ بیانات سے بڑھ کر وفاقی اور صوبائی حکومتیں مزدوروں کے حقوق دینے کیلئے اقدامات اٹھائیں، جمہوریت کے نام پر جمہور کی تضحیک کرنے والوں نے مزدور تو کیا عوام کو بھی اپنا غلام بنا رکھا ہے ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی اشرافیہ مزدوروں کے نام پر سیاسی کھیل کھیلتے رہے اور مزدور دو وقت کی روٹی کو ترستے رہے حیرت ہے کہ عوام اور مزدوروں کے نام پر حکومتیں حاصل کرنے والی طاقتیں بھی مزدور کے نام پر مزدور کا ہی استحصال کرتی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستانی عوام اس فرسودہ نظام کیخلاف ا±ٹھ کھڑے نہیں ہونگے عوام اور مزدوروں کے حقوق پامال ہوتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ مزدور کی کم سے کم اجرت کا قانون تو موجود ہے لیکن کسی جگہ بھی اس پر عمل نہیں ہورہاہے۔