2019 April اسفندیار ولی خان کا قبائلی اضلاع میں انتخابی جلسوں کا اعلان

اسفندیار ولی خان کا قبائلی اضلاع میں انتخابی جلسوں کا اعلان

اسفندیار ولی خان کا قبائلی اضلاع میں انتخابی جلسوں کا اعلان

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ملک کو دیوالیہ کہنے والے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو اب اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ،دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص مجروح ہو چکا ہے،نازک صورتحال میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہئے، ان خیلات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کی نئی صوبائی کنوسل کے پہلے انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے تنظیم سازی کے کامیاب انعقاد پر مرکزی و صوبائی الیکشن کمیشن کو مبارکباد پیش کی اور خصوصاً سابق صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کی پارٹی کیلئے گرانقدر خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سیاست میں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تاہم اس کیلئے ہمیں آپس میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، موجودہ سیاسی حالات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عمران خان آتھ ماہ میں ناکام ہو چکے ہیں ،الیکشن سے قبل جو بھی وعدے کئے گئے ان میں سے کوئی ایک بھی پورا نہ ہوا جبکہ غریب عوام کا جینا دشوار کر دیا گیا ، مہنگائی کے ذریعے غربت کی بجائے غریبوں کو ختم کرنے کے پلان پر عمل درآمد جاری ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عمران خان کی سیاسی کشتی میں اتنے سوراخ ہو چکے ہیں کہ اب انہیں بچانا کسی کے بس میں نہیں ،انہوں نے کہا کہ حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے احتساب کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں کی گئی یہاں تک کہ ہر آفت کو نواز شریف اور زرداری کے ساتھ نتھی کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی طرف سے کوششوں کا آغاز کیا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کو بچانے کیلئے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جو وزیراعظم اور وزیر خزانہ خود ملک کو دیوالیہ ظاہر کریں وہ اقتدار میں رہنے کے حقدار نہیں،بدقسمتی سے اس دیوالیہ پن کی ذمہ داری بھی اٹھارویں ترمیم پر ڈالی جا رہی ہے جو صوبوں کے حقوق غصب کرنے کی چال کی جانب اشارہ ہے ، انہوں نے کہا کہ65سال تک صوبوں کے حقوق پر قابض رہنے والا وفاق پہلے کبھی دیوالیہ نہیں تھا لیکن اب اٹھارویں ترمیم کے بعد مرکز کو ملک دیوالیہ نظر آنے لگا ہے،ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پختونوں کو شناخت دلائی اور اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل کیا جو اب بعض قوتوں کو ہضم نہیں ہو رہا،اسفندیار ولی خان نے واضح کیا کہ پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کا دور گزر چکا ہے کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے اور 18ویں ترمیم کی کسی ایک شق کو بھی چھیڑا گیا تو سب سے پہلے میں سڑکوں پر نکلوں گا،انہوں نے عمران خان کی منطق پر تعجب کا اظہار کیا کہ ملک میں پیسہ نہیں اور پچاس لاکھ گھر بنانے کی دعوے کئے جا رہے ہیں ، پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کی پالیسی کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گی، انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے قبائلی علاقوں با لخصوص وزیرستان میں تباہ ہونے والے گھر و املاک تعمیر کی جائیں ،انہوں نے کہا کہ پختونوں کے حقوق کیلئے تمام پختون قوم پرستوں جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل کے حل کیلئے سوچنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ آج ہر جگہ پختونوں کا خون بہہ رہا ہے جو اب بند ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ مجھ پر ملائشیا اور دبئی میں جائیدادیں بنانے کے الزامات لگائے گئے ، اب عمران وزیر اعظم ہیں میرے تمام پلازے سامنے لائیں،اسفندیار ولی خان نے قبائلی اضلاع میں انتخابی جلسوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قبائل میں انتخابات میں اے این پی بھرپور حصہ لے گی اور کسی کیلئے بھی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔

شیئر کریں