عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ قبائلی و شہری اضلاع سے لوگوں کے اغواءکا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے ،لاپتہ افراد کو رہا نہ کیا گیا تو صورتحال حکمرانوں کو لے ڈوبے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے ٹانک میں سرکاری افسر ریاض میانی سمیت 4افراد کے اغواءاور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی طویل عرصہ سے یہ معاملہ اٹھا رہی ہے لیکن ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا ،حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آئین و قانون کو جگہ نہیں دی جا رہی جبکہ آئینی ذمہ داریوں کو پیروں تل روندا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ گم شدہ اور گم کردہ کی بحث سے نکل کر آگے بڑھنے کا وقت ہے اور حکمرانوں کو اس بات کی وضاحت کرنا ہو گی کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے ، انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں جانے پہچانے نامعلوم افراد پر باتیں کرنا وقت کا ضیاع ہے لہٰذا ھکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا، ایمل ولی خان نے کہا کہ مسلط وزیر اعظم صرف قرضے ورضے کھیل رہا ہے ملک اور صوبوں کو مالی طور پر دیوالیہ کرنے کے سوا کوئی کاکردگی نظر نہیں آئی جبکہ اس کے برعکس عوام کو نامعلوم افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اگر مگر کی پالیسی ترک کرنا ہو گی ، انہوں نے کہا کہ چنگاری کو شعلوں میں تبدیل ہونے سے قبل لواحقین کی بات سنی جائے،لاپتہ افراد کے لواحقین کی اپنے پیاروں کی راہ تکتے آنکھیں پتھرا گئی ہیں، ایمل ولی خان نے کہا کہ گمشدگی اور اغواءکا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور ان کے لواحقین آج تک بے خبر ہیں کہ ان کے پیارے زندہ بھی ہیں یا مر چکے ہیں،پختونوں کے ساتھ زیادتیاں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں،ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہےاور ہر طرح سے مصائب و مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ آج وقت آ چکا ہے قاتل کو قاتل، ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہنے کیلئے آواز اٹھائی جائے۔