عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز سیاسی پریس کانفرنس پر حیرت و تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ پریس کانفرنس نے ہمارے خدشات کی حقیقت واضح کر دی ہے ، عمران خان صرف کٹھ پتلی وزیر اعظم جبکہ حکومت کسی اور کے ہاتھ میں ہے،باچا خان مرکز پشاور میں مختلف اضلاع سے آنے والے پارتی وفود سے بات چیت کے دوران فوج کے ترجمان کی جانب سے پریس کانفرنس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ مدارس کو محکمہ تعلیم کے زیر انتظام لانے ،کالعدم تنظیموں کو قومی دھارے میں شامل کرنے ،داخلہ و خارجہ امور ،خزانہ اور دیگر کئی اہم معاملات کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو مسترد کرتے ہیں، ثابت ہو ا کہ ملک میں تحریک انصاف کی حکومت نمائشی اور جعلی ہے جبکہ اصل حکومت فوج کی ہے، انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس حکومتی معاملات میںمداخلت ہے اور حکومتی معاملات کو فوج کا نمائندہ پریس کانفرنس میں پیش کرے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں اصل حکومت فوج کی ہے اور نام نہاد جعلی حکومت کو ملک کی مسائل پیش کرنے کی نہ تو اجازت ہے نہ اس قابل سمجھا جاتا ہے کہ وہ معاملات کے بارے میں اپنا موقف پیش کرے، انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں اس وقت فیصلوں کا محور حکومت اورپارلیمنٹ نہیں جی ایچ کیو ہے اور اگر سلسلہ یونہی چلتا رہا تو غالب امکان ہے کہ کابینہ کا آئندہ اجلاس بھی جی ایچ کیو میں کرایا جائے گا،انہوں نے کہا کہ ملک کا تشخص اور پارلیمان کی وقعت کو تباہ کر دیا گیا ہے جو ملک کے 22 کروڑ عوام کی عزت اور ناموس کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے، ایمل ولی نے کہا کہ متنازعہ اور غیر متعلقہ پریس کانفرنس نے ملک کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ ملک میں جلد از جلد شفاف ، غیر جانبدارانہ و جنات سے پاک نئے انتخابات کا انعقاد کر کے اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے ۔