عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ قبائلی عوام حقیقی معنوں میں محب وطن ہیں اور امن کی خاطر جان و مال کی قربانیاں دینے والے تاحال کسمپرسی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں،دہشت گردی اور اس کے بعد شروع ہونے والے آپریشنز کے نتیجے میں لاکھوں قبائلی بے گھر ہو گئے جن کی باعزت واپسی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبائلی انتخابات کے سلسلے میں باجوڑ میں پہلے انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک سمیت اے این پی کے بیشتر ارکان اسمبلی بھی اس موقع پر موجود تھے، انہوں نے جلسہ کے انعقاد پر اے این پی ضلع باجوڑ کی تنظیم کا شکریہ ادا کیا،اپنے خطاب میں ایمل ولی خان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے عمل کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچائے کیونکہ حکومت کی سست روی اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے قبائلی عوام میں مایوسی پائی جا تی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے اعلان شدہ 100ارب روپے جاری کرے تاکہ وہاں کے عوام کو صحت،تعلیم اور دوسری سہولیات مہیا کئے جاسکیں، قبائلی عوام نے ملک میں قیام امن کیلئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ان کی مشکلات کا ازالہ کرے۔
جلسہ سے قبل ایمل ولی خان ضلع مہمند میں خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں اُس خاتون کے اہلخانہ سے ہمدردی کیلئے صوبائی کابینہ سمیت اُس کے گھر پہنچے اور متاثرہ خاندان کواپنے اخلاقی و قانونی تعاون کی یقین دہانی کرائی،ایمل ولی خان نے کہا کہ گورنرکو قبائلی اضلاع کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرنا چاہیے، وزیراعظم نے کچھ قبائلی اضلاع کے دورے کئے ہیں لیکن وہ دیگر صوبوں کو وہاں کی ترقی کیلئے اپنے GDPکا تین فیصد حصہ دینے پرآمادہ نہ کرسکے،انہوں نے باجوڑ میں دفعہ 144کے نفاذ کی مذمت کی اور کہا کہ کٹھ پتلی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ قبائلی اضلاع کے دوروں پر ہیں اور جلسوں کی آڑ میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار مشکوک ہے،قبائلی اضلاع میں انتخابی مہم کے دوران حکومتی مشینری کا استعمال ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے جس پر الیکشن کمیشن ایک بار پھر خاموش تماشائی بن گیا ہے، انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں سابق ایم این اے شہاب الدین خان کے بیٹے جلال الدین کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت بوکھلاہٹ کے عالم میں سیاسی رہنماؤں کو راستے سے ہٹانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ڈی سی باجوڑ اس میں براہ راست ملوث ہیں جنہوں نے جلال الدین کو گرفتار کر رکھا ہے،ایمل خان نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے مذموم کوششوں سے باز رہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی بار ہا قبائلی اضلاع سے مائنز کی صفائی کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے، جس میں غیر ضروری کوتاہی اور غفلت برتی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ قیمتی انسانی جانیں بچانے کیلئے مائنز کی صفائی کا کام ہنگامی بنیادوں پر کیا جائے،ایمل خان نے کہا کہ بلاک شناختی کارڈز کا مسئلہ جوں کا توں ہے اور انتخابات قریب آنے کے باوجود قبائلی عوام کے شناختی کارڈز کا مسئلہ حل نہیں کیا جا رہا جو پری پلان دھاندلی کا منصوبہ ہے،انہوں نے کہا کہ ہم ملک کی ترقی چاہتے ہیں،کٹھ پتلی وزیر اعظم جگہ جگہ ہاؤسنگ سکیموں کا افتتاح کر رہے ہیں لیکن انہیں قبائلی اضلاع کے تباہ حال انفراسٹرکچر اور عوام کی تباہ ہونے والی املاک کی فکر نہیں،صوبائی صدر نے کہا کہ پوائنٹ سکورنگ کی بجائے پچاس لاکھ گھر سب سے پہلے قبائلی علاقوں میں تعمیر کئے جائیں،انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد اصولی طور پر قبائلی اضلاع کا انتظام صوبائی حکومت کے پاس ہونا چاہئے لیکن اختیارات کی جنگ میں گورنر اور وزیر اعلیٰ مشت وگریبان ہیں، اور وفاقی حکومت نے عملاً اختیار گورنر کو دے رکھے ہیں،انہوں نے موبائل فون سروس کی بحالی سمیت قبائل میں تھری جی اور فور جی سروس کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجرا میں تاخیر سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں،حکومت میں عوامی نمائندے شامل ہوتے تو انہیں عوامی مسائل کا ادراک ہوتا لیکن بدقسمتی سے حکمران سیاسی نہیں بلکہ عسکری ہیں،اور عوامی نمائندگی کا حق نہ رکھنے والے لوگ عوامی مسائل و مشکلات میں کمی کی بجائے اضافے کا مؤجب بنتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کا راستہ روک کر قبائلی اضلاع کے انتخابات میں دھاندلی کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔