پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے نو منتخب صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملکی معیشت آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور اے این پی ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے چہروں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے گی، صوبائی کونسل سے اپنے پہلے خطاب میں ایمل ولی خان نے تمام کونسلران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ اے این پی اس خطے کی سب سے بڑی جمہوری جماعت ہے، انہوں نے جمہوری عمل کی تکمیل پر تمام پارٹی ،الیکشن کمیشن ممبران اور وارڈ کی سطح سے ضلعی تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جمہوریت صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آتی ہے جس کا مظاہرہ اے این پی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں دیکھنے کو ملا، انہوں نے کہا کہ نو منتخب صدر کی حیثیت سے تمام صوبائی کونسل کو ساتھ لے کر چلوں گا اور پارٹی کے تمام فیصلوں میں صوبائی کونسل کی رائے کو اہمیت دی جائے گی،انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی پارٹی فیصلوں پر اعتراض ہو تو اس کیلئے آئین میں پلیٹ فارم موجود ہے اور سوشل میڈیا یا میڈیا کی بجائے آئینی اور تنظیمی فورم کا استعمال کیا جائے ، انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کارکنوں کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر ہم اس ملک میں جمہوریت کی بقا کی بات کریں گے تو اس کیلئے سب سے پہلے اپنی پارٹی کے اندر جمہوری اقدار کا فروغ یقینی بنائیں گے،انہوں نے کہا کہ ہمیں منزل کے تعین کی ضرورت نہیں وہ ہمیں باچا خان بابا نے بتا دی ہے جن پر چلتے ہوئے ہمیں اس منزل تک پہچنا ہے،انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی خاطر قیدو بند و صوبتوں سے نہیں گھبرائیں گے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج تک ملک میں عوامی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے غیر سنجیدہ پراپیگنڈے کئے گئے،انہوں نے کہا کہ آج ملک کے اہم مسائل دہشت گردی ، صوبوں کے وسائل اور اختیار کا حصول ہے، جس کیلئے اے این پی بھرپور کوششیں جاری رکھے گی ، انہوں نے کہا کہ اٹھرویں ترمیم اے این پی کا عظیم کارنامہ ہے جس کے ذریعے ہم نے اپنے صوبے کے اختیارات مرکز سے حاصل کئے تاہم چند سیاسی نا بالغ اب اس آئینی ترمیم کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں لیکن ہم اٹھارویں ترمیم کی حفاظت خود کریں گے ،ایمل خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں جھوٹ اور گالی کی سیاست پروان چڑھانے والے مسلط حکمران صرف دعوؤں تک محدود رہے ،قبائلی علاقوں کیلئے انضمام کے بعد سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ صرف چند افراد کو اس کا اختیار دے دیا گیا ہے،انہوں نے واضح کیا کہ قبائلی علاقوں کے انتخابات میں اے این پی بھرپور حصہ لے گی اور کسی کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکمران عوامی مسائل کو نظر انداز کر کے آپس میں مشت و گریبان ہیں ، معیشت کی کمر ٹوٹ چکی ہے جبکہ غریب عوام کو دو کی بجائے صرف ایک روٹی کھانے کی ترغیب دی جا رہی ہے جو ان حکمرانوں کی نا اہلی کا ثبوت ہے،انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو ان حکمرانوں کو زبردستی لے کر آئے، احتساب حکومت کے گھر کی لونڈی ہے ، سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کیلئے نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے،جبکہ پی ٹی آئی کی کرپشن پر نیب خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے، ایمل خان نے کہا کہ اے این پی ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے چہروں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے گی۔