عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور عالمی بنک کی تازہ رپورٹ نے تبدیلی کے ڈھول کا پول کھول دیا ہے ، باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں گردشی قرضوں کا حجم 17سالہ تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے ، نااہل مسلط وزیر اعظم نے اربوں روپیہ لوٹ کر ملکی معیشت کو کھوکھلا کر دیا، انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں13.5فیصد مزید اضافے کا امکان عمران کو اقتدار میں لانے والوں کے کردار پر سوالیہ نشان ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ ملکی تاریخ میں کبھی اس قدر گرانی ،معیشت کی تباہی اور شرح نمو میں کمی دیکھنے کو نہیں ملی، عام آدمی خودکشی پر مجبور ہے جبکہ کپتان اور ان کا خوشامدیوں کا ٹولہ چین کی بانسری بجا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیاء کا واحد ملک ہے جس کے راستے محدود، لیکن اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ خراب معیشت کی وجہ کمزور معاشی ترقی اور غربت میں اضافہ ہے جو موجودہ حکومت کا تحفہ ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت کی نا اہلی ، ناتجربہکاری اور غیر سنجیدگی کے باعث مالی سال 2019اور 2020میں غربت کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے بعد ترقی سست روی کا شکار ہوگی اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوگا۔

ایمل خان نے مزید کہا کہ مالی سال 2019کے دوران مہنگائی میں 7.1 فیصداوسط اضافہ متوقع ہے، جو کہ مالی سال 2020میں 13.5فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شرح مبادلہ میں مزید کمی ہوجائے گی۔فروری 2018 سے فروری 2019کے درمیان صارف کے لیے تیل کی قیمتوں میں 8اعشاریہ2فیصد تک اضافہ ہوا جو جنوبی ایشیا میں بالحاظ شرح سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستا ن میں ریکارڈ تجارتی خسارہ ہوا ۔انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان ملک کیلئے سیکورٹی رسک ہیں اور اگر حکومت مزید برقرار رہی تو پاکستان جلد صومالیہ کا منظر پیش کررہا ہوگا۔