عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پختونوں کے حقوق چھیننے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، اٹھارویں ترمیم کی واپسی پاکستان کی بقاءکیلئے خطرہ ہے،اور ایسا کوئی عمل دہرایا گیا تو تباہی کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہو گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے این پی مردان کی ضلعی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے ضلعی کابینہ کے ممبران سے حلف لیااور انہیں ایک بار پھر مبارکباد پیش کی، ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ عمران خان کو چین میں استقبال سے اپنی حیثیت کا اندازہ ہو گیا ہو گا ، دنیا میں کٹھ پتلی وزیر اعظم کا کوئی عزت نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال انتخابات کے نتیجے میں سچ بولنے والوں کو پارلیمان سے باہر کر دیا گیا ، الیکشن سے قبل نیب کا دفتر ڈرائی کلین کی دکان بنایا گیا اور جو اوپر والوں کا حکم ماننے سے انکاری ہوا اسے پارلیمنٹ سے باہر کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں اپنی مرضی کے لوگ بٹھائے گئے لیکن آٹھ ماہ بعد حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کابینہ میں16وزراءٹیکنوکریٹس بٹھا دیئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام لانے کیلئے پہلی قسط پیش کر دی گئی ہے ،گورنر خیبر پختونخوا صدارتی نظام کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ گورنر صدارتی نظام کی باتیں چھوڑ کر صرف ترجمہ پر توجہ دیں،18ویں ترمیم پختونوں کی عظیم فتح ہے اور اس ترمیم کے ذریعے ہم نے پختونوں کے بچوں کا حق حاصل کیا، کپتان دفاعی بجٹ کیلئے اٹھارویں ترمیم کی مخالفت کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دفاعی بجٹ پر جتنا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے اتنی ہی زیادہ ملک میں بدامنی ہے، عام آدمی کی زندگی داو¿ پر لگی ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں انضمام کے بعد سے کوئی دوسرا نظام رائج نہیں کیا گیا، 100ارب کے ترقیاتی پیکج کا اعلان صرف زبانی جمع خرچ تھا، آئی جی نے ترقیاتی پیکج کا مطالبہ کیا تو انہیں گھر بھیج دیا گیا،انہوں نے کہا کہ جاہلوں اور نا اہلوں کا ٹولہ اقتدار پر مسلط کر دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کے نام سے خوفزدہ حکومت نے جلسوں کا سنتے ہی باجوڑ میں دفعہ144نافذ کر دی،ایمل ولی نے کہا کہ ہم باچا خان کے سپاہی ہیں اور دفعہ144ہمیں قوم کی خدمت سے نہیں روک سکتی،میدان میں نکلیں گے اور4مئی کو باجوڑ میں جلسہ کریں گے،انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں ملک میں ڈرامے بازی میں مصروف ہیں اور سیاسی رہنماو¿ں کو خیر خواہی و بد خواہی کے سرٹیفیکیٹ دے رہی ہیں،ہمیں کسی سے سند لینے کی ضرورت نہیں،قوم کی خدمت کی ہے اور آخر دم تک اس مشن پر قائم رہیں گے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ شفاف اور غیر جاندارانہ انتخابات کا اعلان کر کے اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کیا جائے، مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا گیا ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ،رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے تیل گیس ،بجلی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر کے کسی اور کی جیبیں بھری جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ عوام پر مزید600ارب کے ٹیکس لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ پشاور میں اربوں روپیہ کرپشن اور کمیشن کی نذر کر دیا گیا لیکن نیب نے خیبر پختونخوا کے حوالے سے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں، انہوں نے کہا کہ پشاور بیوٹیفیکیشن ،بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی چند ایسے داغ ہیں جن سے کرپٹ حکومت کی قلعی کھل گئی ہے ، اربوں روپیہ لوٹ لیا گیا اور شہریوں کی زندگیاں اجیرن کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام ناراض ساتھیوں کو منانے کیلئے ہر ضلع کا دورہ کروں گا اور پختونوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کیلئے اپنے تئیں کوششیں جاری رکھوں گا۔