عوامی نیشنل پارتی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے گزشتہ روز صوبہ بھر میں پولیو واقعات کی زدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کی غفلت قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ نچلی سطح سے صوبائی و مرکزی سطح تک حکومت صورتحال سے متعلق حقائق سامنے لائے اے این پی اسمبلی فلور سمیت عدالت تک فریق بنے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین سے پیدا شدہ حالات اے پی ایس واقعے سے کم نہیں تھے اور دہشت اور وحشت کا ماھول پیدا کر کے صوبے کے عوام کے ذہنوں پر ایک بار پھر وار کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بے یقینی ، خوف و ہراس اور پراپیگنڈا جیسے حالات پیدا کئے گئے جس کی وجہ سے تمام والدین خوف کے عالم میں بچوں کو ہسپتالوں کی جانب لے کر بھاگے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ بظاہر صورتھال کنٹرول میں تھی لیکن بادی النظر میں اس کے پیچھے خفیہ محرکات کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے مزید کہا کہ1998تک پولیو دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں موجود تھالیکن جس تیزی سے دیگر ممالک نے اس کے خلاف کام کیا بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ ویکسین پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونا ہے جس کے باعث والدین تذبذب کا شکار ہیں ، انہوں نے کہا کہ والدین کیلئے اولاد سے بڑی کوئی دولت نہیں،خیبر پختونخوا میں ویکسین کے زائد المیعاد ہونے کے حوالے سے پہلے بھی کئی بار واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جو حکومتی غفلت کی نشاندہی کرتے ہیں، ایمل ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ روز کے واقعات کے بعد کوئی حکومتی شخصیت عوام کی داد رسی کیلءئے سامنے نہیں آئی جبکہ ہر جگہ اور ہر فورم پر اے این پی کے قائدین و کارکن لوگوں کی دلجوئی اور تسلی کیلئے موجود و سرگرم رہے، پولیو کا خاتمہ بلا شبہ ضروری ہے اور اس وقت صرف پاکستان اور افغانستان ایسے ممالک ہیں جہاں یہ وائرس موجود ہے اور اس کے مکمل خاتمے تک بیرونی دنیا تک رسائی میں مشکلات درپیش رہیں گی، ایمل خان نے کہا کہ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کو اپاہج ہونے سے بچانے کیلئے پولیو کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے لیکن بچوں کی صحت اور زندگی کی قیمت پر سیاسی سکورنگ قومی خیانت ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائے اور بچوں کی زنگیوں سے کھیلنے کی مذموم کوششیں کرنے والے مکروہ چہرے بے نقاب کرے۔انہوں نے اے این پی کے تمام کارکنوں کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے خلاف پراپیگنڈوں پر نظر رکھیں اور اس مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔