عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو اٹک پل پر تاریخی دھرنا ہو گا حکمران ڈی چوک بھول جائیں گے،پنجاب کو پاکستان تسلیم کرنے کا تصور کرنے کے نتائج بھیانک ہوں گے، تحریک انصاف کو اقتدار حوالے کرنے کی غرض سے شرم کی تمام حدیں پار کی گئیں ،آج ملک کی تباہی کی ذمہ داری انہیں قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو پی ٹی آئی کو اقتدار میں لائیں، عید کے بعد بی آر ٹی میں ہونے والی کرپشن اور کمیشن کے خلاف نیب دفاتر کے سامنے دھرنے دیئے جائیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باجکٹہ بونیر میں شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر سابق رکن قومی اسمبلی استقبال خان نے اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا، ایمل ولی خان نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی، استقبال خان نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پارٹی کو ہر سطح پر فعال کرنے کیلئے اپنے تمام ساتھیوں سمیت دن رات محنت کریں گے اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں کلین سویپ کریں گے ، انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب صوبے میں اے این پی کی حکومت ہو گی، ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور اس کی ذمہ داری عمران پھتیچر پو عائد ہوتی ہے جس نے ریلو کٹے وزراء بھرتی کر کے معیشت کو ڈبو دیا، انہوں نے کہا کہ کپتان جسے معیشت کا ارسطو کہتا رہا وہ ملک کو تباہی کے دہانے پہنچا کر بھاگ گیا ، فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں اور وزراء کی تعیناتی کیلئے حکمنامے مل رہے ہیں،41وزراء کی ٹیم میں سے16وزراء پارلیمنٹ کے منتخب نمائندے ہی نہیں،ایمل خان نے کہا کہ پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کی پالیسی خطرناک ہے ، اٹھرویں ترمیم کے خلاف سازشیں شروع ہیں اور اگر کسی نے اسے چھیڑا تو ہمارا دھرنا اٹک پل پر اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارا حق تسلیم نہیں کر لیا جاتا، مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا گیا ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ،صوبے میں جنگل کا قانون ہے ،تیل گیس ،بجلی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر کے کسی اور کی جیبیں بھری جا رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے عوام پر مزید600ارب کے ٹیکس لگائے جائیں گے لیکن کٹھ پتلی حکمران دفاعی بجٹ کم کرنے سے کترا رہے ہیں ، عوام کی کھال اتار کر اسٹیبلشمنٹ کو مظبوط کیا جا رہا ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے جب بھی ملک کی بہتری کی بات کی انہیں غدار کہا گیا ،جبکہ ملک کو توڑنے والی قوتوں کو خوش رکھنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا گیا،احتساب کے نام پر ملک میں ڈرامہ شروع ہے نیازی حکومت میں موجود سب لوگ فرشتے جبکہ سیاسی مخالفین چور ڈیکلئر کئے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پشاور میں اربوں روپیہ کرپشن اور کمیشن کی نذر کر دیا گیا لیکن نیب نے خیبر پختونخوا کے حوالے سے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں، انہوں نے واضھ اعلان کیا کہ بی آر ٹی میں ہونے والی اربوں کی کرپشن کے خلاف عید الفطر کے فورا بعد نیب دفاتر کے سامنے دھرنے دیئے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ بلین سونامی ٹری اور بی آر ٹی کی رپورٹ سامنے آ چکی ہے لیکن ان چوروں پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے، خیبر بنک اے این پی دور میں ایک ارب روپے سالانہ منافع دیتا رہا لیکن بدقسمتی پی ٹی آئی والوں نے اسے دیوالیہ کر دیا ہے جبکہ اس میں کرپشن کی نشاندہی کرنے والے افراد کو ہی ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ وسل بلو ر قانون کا غلط استعمال کیا گیا، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے پیروکار ہیں اور غلامی کی زندگی کبھی قبول نہیں کریں گے۔