پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے دسویں قومی مالیاتی کمیشن کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی صوبائی خودمختاری اور صوبائی حقوق کیلئے مزاحمت کی آخری حد تک جائیگی، دسویں قومی مالیاتی کمیشن میں صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ اس کمیشن میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے فرد کو خیبرپختونخوا کا نمائندہ منتخب کرنا مضحکہ خیز اور نااہلی ہے۔ کیا پورے صوبے میں ایک ایسا بندہ نہیں جو اس کمیشن میں اپنے عوام اور صوبے کے حقوق کی جنگ لڑسکتا ہو؟ دوسری جانب یہی حال ملک کے دوسرے صوبے بلوچستان کا بھی ہے جہاں پی ٹی آئی کے اتحادیوں کی حکومت ہے اور وہاں کی نمائندگی کراچی کے ایک رہائشی کو دی گئی ہے۔ ہر شخص ہمارے لئے قابل احترام ہے لیکن اپنے حقوق کیلئے غیرمتعلقہ اشخاص کا انتخاب قومی وسائل پر سمجھوتہ کرنے اور اپنے حقوق سے دستبرداری ہے جس کی ہر گز اور کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دی جائیگی۔سندھ حکومت اس کمیشن کے قیام کو مسترد کرچکی ہے اور اے این پی بھی اس کو مسترد کرتے ہوئے ازسر نو تشکیل کا مطالبہ کرچکی ہے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ ایک صوبے کی حکمرانی نے پہلے ہی اس ملک کے نقصان پہنچایا ہے اور مضبوط وفاق کے تجربے ناکام ہوچکے ہیں، اٹھارہویں ترمیم نے اس ملک کو مضبوط کیا ہے۔ صوبوں کو وسائل پر اختیار ہوگا تو وہ اپنے مسائل خود حل کرنے کے قابل ہوں گے لیکن بدقسمتی سے سلیکٹڈ حکمران سلیکٹرز کی خوشنودی کیلئے ہر غیرآئینی اقدام اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کمیشن میں مشیرخزانہ اور سیکرٹری خزانہ کی شمولیت بھی غیرآئینی ہے، صدرمملکت اگر اور کچھ نہیں کرسکتے تو کاغذ پر دستخط کرنے سے پہلے ایک بار آئین پاکستان بھی دیکھ لیا کریں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہر محاذ پر غیرمنتخب افراد کا براجمان ہونا ظاہر کررہا ہے کہ فیصلے کہیں اور سے ہورہے ہیں۔

ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حقوق پر ڈاکہ برداشت کریں گے۔