پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ایک بار پھر نیب کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی تاحال اپنے اعلان پر قائم ہے،اگر عید تک بی آر ٹی،خیبر بینک،مالم جبہ اور بلین ٹری کے کیسسز پر پیش رفت نہ ہوئی تو نیب دفتر کے سامنے پھر نیب کا احتساب خود اے این پی کریگی،باچا خان مرکز میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئئے ایمل ولی خان نے کہا کہ چیئرمین نیب کو بلاول کے پیمپرز کا ریکارڈ تو مل رہا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں ہونے والی لوٹ مار پر پوری کی پوری نیب نے نہ صرف آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں بلکہ چھپ کا روزہ بھی رکھا ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ہر منصوبہ دوسرے سے مختلف کرپشن کی الگ داستانیں ہیں،نیب کو نہ بی آر ٹی میں کرپشن نظر آرہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے منصوبے میں،خیبر پختونخوا میں ویسل بلور قانون کی موجودگی میں اُن افسران کو خیبر بینک سے فارغ کیا گیا جنہوں نے صوبائی حکومت کی کرپشن کی نشاندہی کی تھی،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ویسل بلور قانون کی موجودگی میں اُن افسران کو جز ا ملتی لیکن تبدیلی سرکار نے خیبر پختونخوا کے نیشنل بینک کا بیڑا غرق کرنے اور اُسے پرائیوٹائز کرنے کیلئے اُن افسران کو بے روزگار کردیا جو آج تک عدالتوں میں کوار ہورہے ہیں،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کو صرف ایک ہی دورے کے دوران بلین ٹری منصوبے میں کرپشن نظر آگیا لیکن کروڑوں روپے تنخواہ لینے والے نیب افسران کو یہ کرپشن نظر نہیں آئی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کسی طور سیاسی سکورنگ نہیں کررہی،اے این پی ہر قوت اور حکومت کے پریشر سے آزاد نیب کے حق میں ہے،لیکن اے این پی یہ حوصلہ ضرور رکھتی ہے کہ چیئرمین نیب سے پوچھیں کہ سیاسی کیسسز پر اُن کے تبصرے کیا پیغام ہے؟انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اول سے نیب کی غیر جانبدارانہ کردار کا مطالبہ کرتی آرہی ہے،اے این پی بلاامتیاز احتساب کی حامی ہے اور بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت ہے یہی وجہ کہ اے این پی کے مرکزی صدر سے لیکر ایک ادنیٰ کارکن تک یہی مطالبہ کررہا ہے کہ ملک میں بلاامتیاز احتساب کا عمل یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں اے این پی اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتی ہے۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر نیب مصلحتوں کا شکار رہا اور نیب کا یہی کردار رہا کہ وہ پی ٹی آئی کے کرپشن پر خاموش رہے تو اے این پی ضرور عید کے بعد نیب دفتر کے سامنے احتجاج کریگی۔