پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ میڈیا کیخلاف سنسرشپ آئین کی خلاف ورزی ہے، آزادی اظہار کو یقینی بنانا اور سنسرشپ روکنا اے این پی کی کاوش ہوگی،18جون کو یرغمال کئے گئے میڈیا کی آزادی، صحافیوں کے معاشی قتل عام اور میڈیا ہاؤسز پر غیر ضروری سنسر شپ کے خلاف اے این پی عظیم الشان مظاہرہ کرے گی، مظاہرے سے اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی، مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین، زاہد خان، حاجی غلام احمد بلور سمیت دیگر قائدین خطاب کریں گے،صحافیوں کے حقوق کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی جائے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹی وی چینلز اور اخبارات کے خلاف بڑھتی ہوئی سنسرشپ آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی میڈیا کی آزادی کیلئے صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے میڈیا کی آزادی کیلئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی کوئی بھی سیاسی جماعت میڈٰا پر قدغن برداشت نہیں کر سکتی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ آزاد میڈیا کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے کا لازمی جزوہوتا ہے جس کے بغیر ایک جمہوری اور مہذب معاشرے کا کوئی تصور نہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی آزادی صحافت پر کامل یقین رکھتی ہے اورصحافت پر کسی قسم کی قدغن یا صحافیوں کے خلاف کارروائیاں قابل قبول نہیں ہیں، ایمل ولی خان نے کہا کہ مسلط وزیر اعظم اس میڈیا کے خود سب سے بڑے بینیفشری ہیں اور اب اقتدار میں آ کر اسی میڈیا کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے تمام میڈیا گروپس، صحافی برادری سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو اکٹھا ہو نا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار پر قدغن لگانا جمہوریت کی حقیقی روح کے منافی ہے، ایمل ولی خان نے تمام پارٹی عہدیداروں کارکنوں،ذیلی تنظیموں اور جمہوریت پسن قوتوں سے اپیل کی کہ میڈیا کی آزادی کیلئے اے این پی کے مظاہرے میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔