پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ فاٹا انضما م کے وقت ان اضلاع کے فورسز کے ساتھ کئے گئے وعدوں سے انحراف حکومتی ناکامی اور بدنیتی ہے، ضم اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار فورسز کے ساتھ دھوکہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا، یہاں تعیناتی پر پہلا حق مقامی افراد ہی کا ہے اور انضمام کے وقت حکمران یہاں کے عوام سے وعدہ کرچکے ہیں کہ 40ہزار مقامی نوجوانوں کو پولیس میں بھرتی کیا جائیگا لیکن ابھی تک وہ وعدہ ایفا نہ ہوسکا۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع کے فورسز کو بھی وہی مراعات و اختیارات دیے جائیں جو دوسرے اضلاع کے پولیس و دیگر فورسز کو حاصل ہیں۔ خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے اور اب انکی قربانیوں کے اعتراف کا موقع آچکا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کو بھرتی سے باہر رکھنے کی مذموم سازش رچائی جاچکی ہے۔ دہشتگردی کی عفریت کا مقابلہ کرنیوالے نوجوانوں سے روزگار کے مواقع چھینے جارہے ہیں۔ ان نوجوانوں کی پولیس میں بھرتی اور پولیس سکول میں ٹریننگ کا وعدہ بھی حکمران بھول چکے ہیں۔ باہر کے افراد لاکر مقامی نوجوانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ بغیر اختیارات اور صرف بیجز لگانے سے ان فورسز کو پولیس میں ضم کرنا مضحکہ خیز ہے اور ان فورسز کی قربانیوں کا مذاق اڑانا ہے اور جب کوئی اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتا ہے تو ان کو معطل کیا جاتا ہے جو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر نے مزید کہا کہ ہماری جماعت شروع دن سے خاصہ دار اور لیویز فورسز کو دیگر اضلاع کے فورسز کے برابر لانے کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔ پختونخوا کے نئے اضلاع سمیت پورے صوبے میں مقامی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی جو کوشش کی جارہی ہے ، اے این پی اسے ناکام بنائے گی۔