پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور اگر اسے چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو سب سے پہلے میدان میں ہونگے، پنجاب کو پاکستان تصور کرنے والا کپتان 50لاکھ بنانے سے قبل وزیرستان میں تباہ ہونے والی قبائلیوں کی املاک کی تعمیر یقینی بنائے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنج پیر صوابی میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر قوم پرست رہنما اور سابق ایم پی اے سلیم خان ایڈوکیٹ نے اے این پی میں واپس شمولیت کا اعلان کیا ، اسفندیار ولی خان نے سلیم خان ایڈوکیٹ کو سرخ ٹوپی پہنائی اور انہیں باچا خان کے قافلے میں واپس آنے پر مبارکباد پیش کی۔

اپنے خطاب میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ملک انتہائی نازک دوراہے پر کھڑا ہے اور اس صورتحال میں تمام پختونوں کو آپس میں اتحاد واتفاق کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ صوابی باچا خان بابا کا دوسرا گھر ہے ،تمام ناراض ساتھیوں کو منانے کیلئے خود ان کے پاس جاؤں گا، ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں جس طرح کی دھاندلی کرائی گئی اس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی ،انہوں نے کہا کہ پختونوں کے حقوق چھین کر پنجاب اور وفاق کو مضبوط کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ، حکمران یاد رکھیں تمام صوبے آپس میں بھائی ہیں ،پنجاب کو بڑا بھائی تسلیم کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق چھیننے کی اجازت کسی کو نہیں دینگے، انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر طرف انارکی پھیلی ہے اور حکومت احتساب کو سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کے طور پر استعمال کر رہی ہے جبکہ نیب عمران خان کا باڈی گارڈ بنا ہوا ہے ،اسفندیار ولی خان نے نیب کی آج کی کارروائی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ مخالفین کو عمران خان کے سامنے جھکانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔

حکومت آج اتنا ظلم کرے جتنا کل کو برداشت بھی کر سکے،انہوں نے کہا کہ اگر آصف زرداری کی ہمشیرہ کیلئے جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو علیمہ خان کو کیوں صرف جرمانہ کر کے چھوڑا گیا،انہوں نے ایک بار پھر خود کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے تاہم عمران خان احتساب کا عمل خود سے شروع کریں ،اے این پی حکومت میں آ کر پختونوں کے ساتھ کی جانے والی نا انصافیوں کا بدلہ لے گی،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کرپٹ اور ڈاکو اس ملک کا وزیر دفاع ہے ،عمران خان جن پارٹیوں کو چور کہتے رہے انہی سے لوگ اکٹھے کر کے ڈرائی کلین کرنے کے بعد اپنی حکومت کی بیساکھیاں بنا لیں،مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بجلی ،گیس ،پٹرول ،ڈیزل سمیت تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور کر دی گئی ہیں ، حکومت غربت کے خاتمے کا فارمولہ لے کر آئی ہے جس کے تحت غریب کو ختم کیا جا رہا ہے،جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 300فیصد اجافہ کر دیا گیا ہے تاکہ کوئی زندہ نہ بچ سکے، انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری کپتان کو اقتدار میں لانے والوں پر عائد ہوتی ہے،قبائلی اضلاع بارے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ انگریز کا کالا قانون ختم ہو چکا ہے لیکن آج تک وہاں کوئی نظام رائج نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے قبائلی عوام گو مگو کی کیفیت میں ہیں ،تمام اختیارات گورنر کے پاس ہیں جبکہ انضمام کے بعد نئے اضلاع کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہونا چاہئے ،انہوں نے آکر میں ایک بار پھر پختونوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اپنے جائز حق کی خاطر سب کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا پڑے گا ۔اس موقع پر پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے سلیم خان ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا اور اسفندیار ولی خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوابی سمیت صوبہ بھر میں پارٹی کی مجؓوطی اور فعالیت کیلئے انتھک محنت کی جائے گی۔