پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ چھوٹے صوبوں کے عوام ہر کسی سے زیادہ پاکستانی ہیں ، ریاست اور اس کے ادارے اگر قومیتوں کے درمیان فرق روا رکھیں گے تو یہ اس فیڈریشن کے لئے نقصان دہ ہوگا، یہاں پر بسنے والی تمام قومیتیں ،مسالک اور مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنے سے ہی ملک آگے بڑھے گا۔ ولی باغ چارسدہ میں سابق ایم این اے اور قبائلی رہنما الحاج شاہ جی گل کے فرزند بلاول آفریدی کی سربراہی میں وفد سے بات چیت کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اس وقت پختون قامی جرگہ اور پختون اتحاد کی بات ہورہی ہے، ہم بارہا کہہ چکے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ پختون قوم کے حقوق کے لئے اگر اتحاد ہوگا، جہاں بھی ہوگا، جو بھی کرے گا، عوامی نیشنل پارٹی اس میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کرے گی۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ اے این پی صرف پشتون قام نہیں بلکہ اس ملک میں بسنے والی ہر مظلوم قومیت کی آواز بنے گی۔ بحیثیت پختون باچاخان سے اسفندیارولی خان تک ہماری تمام تر کوششوں کا محور پختون قوم کو مشکلات سے نکالنا اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ گزشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی اور بدامنی کا شکار پختون قوم کے مسائل ان گنت ہیں لیکن بدقسمتی اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ابھی تک قومیتوں کی بنیاد پر امتیازی سوچ رکھنے والے لوگ پختونوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب ہمارا قومی فریضہ بن چکا ہے کہ تمام پختون قیادت ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہوکر اپنے قوم کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے مشترکہ کوششیں شروع کریں۔ ملک میں موجود کروڑوں پختونوں کی نظریں سیاسی قیادت پر ہیں، آج اس مشکل دور میں بھی اگر اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائی گئی تو ہماری آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے اور نہ ہی یہ ریاست ہمارے حقوق مفت میں دینے کو تیار ہیں۔ایمل ولی خان نے کہا سرحد کے دونوں جانب پختون قوم دہشتگردی و بدامنی سے متاثر رہے ہیں، مگر مزید جنگ کا ایندھن نہیں بنیں گے۔ بلوچستان میں بھی ایک سازش کے تحت پشتون آبادیوں میں بدامنی پیدا کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں لیکن ہم ان تمام قوتوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ان کا یہ کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔ آگ اگر لگ گئی تو ایک بار پھر نوے کی دہائی والا کھیل پورے ملک کو لپیٹ میں لے گا جس کے لئے ہم ہرگز تیار نہیں۔ اس دھرتی کے لئے ہم نے جو قربانیاں دیں وہ باچا خان کی سوچ و فکر کی مرہون منت ہیں۔ ہم امن پسند قوم ہیں اور سرحد کے دونوں جانب مزید آگ کا کھیل کھیلنے والوں کی کوششوں کو ناکام بنائیں گے۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام نے اس دھرتی کے امن کی خاطر بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور اب وقت آگیا کہ انکی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے۔ انہوں نے جو مالی و جانی نقصانات اٹھائے ہیں ان کا ازالہ کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بہترین موقع ہے کہ قبائلی عوام کو صوبائی و مرکزی اسمبلیوں میں بااختیار نمائندگی دی جائے۔ ایمل ولی خان نے الیکشن کمیشن سے بھی مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات بروقت انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔