پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے والے بے روزگاری کے کانٹے تقسیم کرنے لگے ہیں،حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے صرف روزگار چھیننے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ملاقات کیلئے آنے والے سمال بزنس اور کھوکھا ایسوسی ایشن کے 50رکنی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، وفد نے میاں افتخار حسین کو اپنے مطالبات اور حکومت کی جانب سے کھوکھے بند کرنے جیسے انتہائی اقدام اور مسائل سے آگاہ کیا، وفد نے تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ40برسوں سے اسلام آباد میں مقیم اور کھوکھا ایسوسی ایشن کے غریب مالکان محنت مزدوری سے بچوں کا پیٹ پالنے میں مصروف ہیں لیکن موجودہ حکومت کے دور میں ایم سی ون اور سی ڈی اے کی جانب سے کھوکھوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، میاں افتخار حسین نے وفد کے مسائل سنے اور حکومت کو خبردار کیا کہ روزگار دینے کی بجائے غریبوں سے روزگار چھیننے کی پالیسی ترک کر دے، انہوں نے کہا کہ پہلے سے لائسنس یافتہ کھوکھوں کو نوٹس دینا اور ان غریب لوگوں کو بے دخل کرنے کی پالیسی کسی صورت قابل برداشت نہیں، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں یا ادارے کو موجودہ جگہ کا مسئلہ ہے تو ان غریب لوگوں کو متبادل جگہ کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے، غریبوں کو بے روزگار کرنے والے کل کو اسلام آباد کو فروخت کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ حکمران آئی ایم ایف کو خوش کرنے کیلئے مزدوروں سے روزگار چھین رہے ہیں،ملک و قوم آج جن پریشانیوں،مشکلات اور بدامنی کا شکار ہے اس کے ذمہ دار حکمران ہیں،ٹیکس غریب دیتا ہے اور عیش حکمران کرتے ہیں، میاں افتخار حسین نے متنبہ کیا کہ اے این پی کھوکھا ایسوسی ایشن والوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اگر انہیں بے روزگار کرنے اور بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی غریب کھوکھے والوں کے حق کیلئے ہر فورم پر آواز اتھائے گی۔