اسلام آباد(جنرل رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی نے نیب ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم اداروں،جمہوریت اور آئین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔آئین سے متصادم قانون سازی نہیں ہو سکتی،نیب ترمیمی آرڈینس اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے لائی گئی ہے۔ ترجمان اے این پی زاہد خان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان یہ سمجھتے نہیں کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس لانا پارلیمنٹ کی تضحیک ہے۔آئین کے تحت بننے والا قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے،ملک آئین کے مطابق چلتا ہے۔ یہ دنیا اور ملک میں انہونی مثال ہے کہ آئین سے متصادم قانون سازی کی جا رہی ہے ۔ زاہد خان کا کہنا تھا کہ سیلیکٹڈ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کو بے توقیر اور غیر فعال کر دیا ہے،انھیں علم نہیں کہ پارلیمنٹ کے غیر فعال ہونے سے آئین غیرفعال ہو جاتا ہے۔حکومت اگر نیب قانون میں ترمیم چاہتی ہے تو اسے پارلیمنٹ کے ذریعے کرے،حکومت ایسا قانون لائے جو شفاف ہو اور سب کے لیے برابر ہو ایسا قانون نہ لائے جو آئین سے متصادم ہو۔ ترجمان اے این پی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کوشش رہتی ہے کہ اداروں میں ٹکراو ہو سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ پارلیمنٹ کی طرف بھیجا اب یہ نااہل حکومت اس معاملے کو دوبارہ سپریم کورٹ میں لیکر جا رہی ہے،اس حکومت نے خود سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ ہمیں کوئی راستہ بتائیں۔سیلیکٹڈ حکومت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے انہیں راستہ دکھایا۔ زاہد خان نے کہا کہ ہمارے ادارے اندرون ملک اور سرحدوں کے محافظ ہیں حکومت کے اس اقدام سے ان ادراوں پر دوبارہ بحث شروع ہوجائے گی۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بحث پر دنیا میں جگ ہنسائی ہوگی۔ آرمی چیف کا کیس دوبارہ عدالت میں لے جانا ہمارے ادارے کی توہین اور تذلیل ہو گی انہوں نے موجودہ حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت ایسے اوچھے ہتکھنڈوں سے باز رہے