پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم قبائلی اضلاع کے عوام کیلئے نوید مسرت ہے اور تمام سیاسی جماعتیں بل کی منظوری پر مبارکباد کی مستحق ہیں،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی کا روز اول سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ نا گزیر ہے اور ان نشستوں کی مد میں مظلوم قبائلی عوام کو ان کا جائز حق ملنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری خوش آئند ہے تاہم اب الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ شیڈول تبدیل کئے بغیر مقررہ وقت کے اندر حلقہ بندیوں کا کام مکمل کر کے شفاف انتخابات کرائے،ایمل ولی خان نے کہا کہ قبائلی علاقے دہشت گردی کے ناسور کے باعث پسماندہ رہ گئے ، قبائلی عوام دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی ان پر مسلط کی گئی جس کی وجہ سے تمام قبائلی اضلاع ترقی کے دھارے میں بھی شامل نہ ہو سکے، انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام کی قربانیوں کوپوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نشستوں کی تعداد میں اضافے سے قبائلیوں کے منتخب نمائندے اسمبلی فلور پر اپنے علاقے کے مسائل کی نشاندہی کر سکیں گے اور ان کے حل کیلئے جامع و ٹھوس اقدامات کئے جا سکیں گے ، ایمل خان نے کہا کہ قبائلیوں کی محرومیوں کا خاتمہ اولیں ترجیح ہونا چاہئے اور نویں این ایف سی ایوارڈ کا اجراءکر کے تین فیصد حصہ قبائلی علاقوں کی بحالی کیلئے صرف کیا جانا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی قبائلی اضلاع کے انتخابات کیلئے پوری طرح تیار ہے اور کامیابی کے بعد دہشت گردی سے متاثرہ ان اضلاع کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دے گی۔