2019 میٹرک پاس اساتذہ کی بھرتی، اے این پی کا حکومتی فیصلے پر اظہار افسوس

میٹرک پاس اساتذہ کی بھرتی، اے این پی کا حکومتی فیصلے پر اظہار افسوس

میٹرک پاس اساتذہ کی بھرتی، اے این پی کا حکومتی فیصلے پر اظہار افسوس

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے حکومت کی جانب سے نئے اضلاع میں اساتذہ تعیناتی کیلئے میٹرک پر شرط پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میٹرک پاس شخص کس طرح بچوں اور بچیوں کو تعلیم دے سکتا ہے،پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اپنے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لے اور وضاحت کرے کہ کس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا، انہوں نے کہا کہ تعلیم جیسے انتہائی اہم شعبے کو سیاسی پوانئٹ سکورنگ اور صرف روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بنانے کی بجائے نئی نسل کے مستقبل کی فکر انتہائی اہمیت کی حامل ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ نئے اضلاع میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیں اور ان اضلاع میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی بھرتی تعلیم کے فروغ کیلئے ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت اساتذہ کی بھرتی کیلئے تعلیم یافتہ لوگوں سے درخواستیں طلب کرے اور اگر وہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ موجود نہ ہوں تو اسمبلی میں رپورت جمع کرائی جائے جس پر سب کو متفقہ فیصلہ کرنا چاہئے، انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت وضاحت کرے کہ نئے اضلاع میں صرف پانچ سو لوگوں کو روزگار دینا مقصود ہے یا بچوں اور بچیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کیلئے اساتذہ کی بھرتی اہم ہے، انہوں نے کہا کہ ایک جانب حکومت کوالٹی ایجوکیشن کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہے جبکہ اس کے برعکس تعلیمی معیار گرانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے،انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع میں معیاری تعلیم کی اشد ضرورت ہے جبکہ حکومتی فیصلے سے کم تعلیم یافتہ اور سفارشی لوگوں کی بھرتی کھل جائے گی جو وہاں کی آئندہ نسلوں کے ساتھ زیادتی ہوگی،سردار بابک نے کہا کہ حکومت سولو فلائٹ کی بجائے مشاورت سے فیصلے کرے اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل اسمبلی فلور اور قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو مد نظر رکھے،انہوں نے کہا کہ دوسرے اضلاع کی طرح نئے اضلاع میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی بھرتی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

تبصرہ کیجئے
شیئر کریں