پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی اسمبلی کا پری بجٹ اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئندہ صوبائی بجٹ کے حوالے سے اپنی ترجیحات ایوان کے سامنے پیش کرے، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں سے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور صوبہ مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے جس کے باعث عوام مسائل و مشکلات کی دلدل میں دھنس چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے بجٹ،محاصل اور تخمینہ جات سے اسمبلی کو آگاہ کرے اور اس حوالے سے اسمبلی کو اعتماد میں لے،سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ اسمبلی ممبران کی بجٹ تجاویز شامل کی جائیں، صوبے کے محدود وسائل کے استعمال اور تقسیم کا اختیار بند کمروں میں کرنے کے فیصلے کسی صورت قابل قبول نہیں ہونگے،انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ پری بجٹ سیمینارز کا انعقاد کرے،اور میڈیا، سول سوسائٹی سمیت عوام کے سامنے بجٹ کی تفصیلات رکھے،انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں بجٹ سازی صوبے اور عوام کے ساتھ غداری ہو گی،انہوں نے کہا کہ عوام کو مالی بد انتظامی کی وجوہات،نئے منصوبوں کیلئے درکار رقم اور ان کی تفصیلات اور صوبے کے ٹھیکیداروں کے اربوں روپے کے بقایاجات کی عدم ادائیگی بارے بھی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے، سردار بابک نے الزام عائد کیا کہ حکومت دوسرے ضروری منصوبوں سے رقم نکال کر اپنے چہیتے وزرا اور ارکان اسمبلی کے حلقوں کو منتقل کر رہی ہے،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی غیر ضروری سرگرمیوں میں پیسے کی بربادی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا ہو گا کہ حکومت عوام کے ساتھ کس قدر مخلص ہے، حکومت سنجیدہ ہوئی تو پری بجٹ اجلاس بلا کر آئنہ بجٹ سازی کے سلسلے میں ارکان اسمبلی کو بھی اعتماد میں لے گی۔