پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی ترک کر کے بجلی منافع کے حصول کیلئے وفاق پر دباؤ ڈالے،سلیکٹڈ اعظم کا بیان تشویشناک ہے،صوبے کی حق تلفی نہیں ہونے دیں گے، صوبے کی تاریخ میں اے این پی کی واحد حکومت گزری ہے جس نے وفاق سے بجلی کے خالص منافع سمیت اپنے وسائل پر اختیار حاصل کیا، میگا کرپشن کرنے والوں کو حکومت میں بڑے عہدوں سے نوازنا پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکا ہے، ملم جبہ اراضی سکینڈل میں براہ راست ملوث شخص کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا گیا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل چار باغ سوات میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ باچا خان کا نظریہ اور سوچ و فکر لے کر میدان میں نکلا ہوں اورتمام ناراض ساتھیوں کو سرخ جھنڈے تلے متحد کریں گے، انہوں نے کہا کہ کارکن پارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں سوات میں جتنے ترقیاتی کام کئے ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی تاہم بدقسمتی سے گزشتہ چھ سال سے صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا کو مالی بدحالی کا شکا رکر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک بھر کاکرپٹ مافیا احتساب کے شکنجے سے بچنے کیلئے پی ٹی آئی میں شامل ہو گیا، ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبے میں بڑی کرپشن کرنے والوں کو بڑی وزارتوں سے نوازا گیا، ملم جبہ اراضی سکینڈل کا مرکزی کردار صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا جبکہ بی آر ٹی کے کرپشن اور کمیشن مافیاکو وفاق میں وزارتیں دے دی گئیں، انہوں نے کہا کہ احتسابی ادارے حکومت کے باڈی گارڈ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور کرپشن کی بجائے صرف اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی روش تبدیل کر کے خاموش تماشائی بننے کی بجائے بجلی کا خالص منافع حاصل کرنے کیلئے وفاق پر دباؤ ڈالے،وزیر خزانہ کی جانب سے معاملے کو نیا رنگ دینے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اے اجی این قاضی فارمولا، مشترکہ مفادات کونسل نے 1991میں اپنایا،اس وقت اے این پی حکومت میں اتحادی تھی، اے این پی نے ہمیشہ وسائل کی جنگ جیتی ہے لیکن دو تہائی اکثریت رکھنے والی آج کی حکومت سب کچھ ہارچکی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی نے بجلی کے خالص منافع،این ایف سی اور ااٹھارویں ترمیم سمیت عوامی حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی ووٹوں سے اقتدار میں نہیں آئی اسی لئے وسائل پر اختیار کھونے کو بھی تیار ہوگئی ہے، اسفندیار ولی خان کے دورہ افغانستان پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے جسکے پاکستان کیساتھ سفارتی تعلقات موجود ہیں،اسفندیارولی خان کو باہر جانے کیلئے کسی کی اجازت یا حمایت کی ضرورت نہیں،بہتر ہوگا کہ آپ لوگ اسفندیار ولی خان کے دورے کی بجائے اپنی توجہ عوامی مسائل پر مرکوز رکھیں، انہوں نے کہا کہ جن قوتوں کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا وہ عوامی مشکلات کا ادراک نہیں کر سکتیں،حکومت میں شامل مربہ صرف اپنی کرپشن اور چوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔