پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک میں یک جماعتی حکومت کیلئے احتساب کو گھر کی لونڈی بنا لیا گیا ہے ، جمہوریت کو خطرات درپیش ہیں اور موجودہ وقت میں سیاسی جماعتوں کو اتحاد اوتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا، باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخصوص جماعت کو اقتدار دلا کر جمہوریت کو داؤ پر لگا دیا ہے ، ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے جس میں عوام کو زندہ درگور کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ سیاسی قیادت کو تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحد ہونا ہو گا، انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کو اپوزیشن کے خلاف سیاسی انتقام کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ، اے این پی ہمیشہ سے بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ کرتی آئی ہے لیکن اسے سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں ایک جماعتی حکومت کیلئے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے، ملک عمران خان کو دو تہائی اکثریت دلانے کی بھاری قیمت ادا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی بجائے بلا تفریق اور غیر جانبدارانہ احتساب کیا جانا چاہئے اور اس عمل کا آغاز حکومتی بنچوں سے کیا جائے ۔ ایمل ولی نے کہا کہ کرپشن کے خلاف اور احتساب کے نام پر عوام کو ورغلانے والوں نے صوبے کے خزانے کو 64ارب سے زائد کا ٹیکہ لگا دیا اور کسی بھی محکمے کو نہیں بخشا ، انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ میں خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیاجبکہ15ارب کی کرپشن محکمہ خوراک میں کی گئی ،انہوں نے کہا کہ نیب حکومتی آلہ کار بن چکا ہے اور احتساب کمیشن کو تالے لگانے والے جلد نیب کا قصہ تمام کر دیں گے، انہوں نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے غلط سمت میں جا رہی ہے جس کی وجہ سے مسائل مزید گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں ، افغانستان کے ساتھ پائیدار اور دیرپا امن کے قیام میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دوہری پالیسی سے قطع نظر افغانستان کے ساتھ بھی ویزہ پالیسی ختم کی جائے اور تجارت کے فروغ کیلئے تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی آزاد خارجہ پالیسی کے حق میں ہے لہٰذا حکومت خارجہ و داخلہ پالیسیوں کو ری وزٹ کرے اور انہیں قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے از سر نو تشکیل دے۔