عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ڈاکٹر برادی پر وزیر صحت اور سرکاری اہلکاروں کی طرف سے کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے بعد سرکاری غنڈوں کی بجائے متاثرہ ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ تشدد کے بعد اصل ملزموں کی بجائے متاثرین کے خلاف کاروائی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے،جو اس بات کی جانب واضح اشارہ ہیں کہ ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ منتخب وزیر کی طرف سے سرکاری ملازمین پر تشدد کی نئی بدترین مثال قائم کی گئی ہے اور یہ سارا ڈرامہ نوشیروان برکی کی خاطر کیا جا رہا ہے،حکومت کی جانب سے واقعے پر مسلسل خاموشی سوالیہ نشان ہے جس کا جواب کسی حکومتی عہدیدار کے پاس نہیں، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس کی حقیقت اب کھل کر سامنے آ گئی ہے،اور وہ بزور طاقت حکمرانی کرنے والے وزیر صحت اور اس کے حواریوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے کترا رہی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ پولیس نے زیادتی اور ظلم کا ساتھ دینا ہے تو اس کے خطرناک نتائج بھگتنے کیلئے بھی تیار رہے،انہوں نے میڈیا کی جانب سے واقعے کا بلیک آؤٹ کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ واقعے میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی عمل دخل نہیں تو پھر میڈیا کس کے ڈر سے واقعے کو دبانے کی کوشش کر دہا ہے؟ ایمل ولی خان نے کہا کہ میڈیا کے کردار سے ایسا تاثر مل رہا ہے جیسے پی ٹی آئی کے کٹھ پتلی وزراء بھی مقدس گائے ہیں اور ان کے خلاف ایک لفظ بھی گناہ کبیرہ میں شمار ہو گا،انہوں نے کہا کہ اے این پی ڈاکٹر برادری کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور حکومتی غنڈوں کو کسی طبقے کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی، ایمل ولی خان نے واقعے کی پارلیمانی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا کہ وزیر صحت سمیت نوشیروان برکی کو برطرف کر کے ان کے خلاف ایف آئی درج کی جائے اور ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔