پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ افغانستان کو خود مختار اور آزاد ملک تسلیم کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا،پاکستان دوسرے ملکوں میں مداخلت بند کر کے افغانستان کو پنپنے کا موقع دے، ملک کے تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں نہ رہے تو اداروں کے درمیان خانہ جنگی خارج از امکان نہیں،عید الفطر کے بعد اے پی سی میں حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ ہو جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹرویو کے دوران کیا،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بالکل ایسے ہے جیسے چین، امریکہ یا کوئی تیسرا ملک پاکستان میں مداخلت کرے،افغانستان کی خودمختاری تسلیم کرتے ہوئے اسے پنپنے کا موقع دیا جائے تو خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے،ملک کی موجودہ صورتحال بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئےء تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا ایکا نیک شگون ہے، حکومت نے ملک کو تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور صرف غریب مٹاؤ پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے، معیشت تباہ ہو چکی ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہ موجودہ حکمرانوں کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں، حکومت صرف ریت کی بوری ہے اور ہماری تحریک بوری کے پیچھے بیٹھی قوتوں کے خلاف ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ملک کے انتخابات انجینئرڈ کرنے میں ملوث ہے جس کی وجہ سے عوامی نمائندگی کا حق رکھنے والوں کو پارلیمنٹ سے باہر کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے ایک پیج پر متفق نہیں، مقتدر قوتوں کے اندر بھی محب وطن لوگ موجود ہیں جو موجودہ حالات سے نالاں ہیں،ایمل ولی خان نے اس بات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کا لیبل لگا کر پختونوں کو بدنام کیا گیا جبکہ پنجاب میں سینکڑوں کالعدم تنظیمیں اپنی کاروائیوں کیلئے وزیرستان اور باجوڑ کو استعمال کرتی رہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے سازش کے تحت چھوٹی قومیتوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے،پختونوں کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، جنازوں اور حجروں کو نشانہ بنایا گیا اور ہماری دھرتی پر لگی اس آگ کا سہرا بھی ایک ڈکٹیٹر ضیا الحق کے سر ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ پچاس سال سے ہمارے آباؤ اجداد اس جنگ کو فساد کا نام دیتے رہے جس پر انہیں غدار کہا گیا، آج وقت نے ثابت کیا کہ یہ کفر اسلام کی نہیں بلکہ ڈالروں کی جنگ تھی، ایمل خان نے کہا کہ اُس وقت کے محرکات آج بھی اپنی غلطی تسلیم کر کے قوم سے معافی مانگ سکتے ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ ہم عدم تشدد کے فلسفے پر کاربند رہنے والے باچا خان کے پیروکار ہیں اور کسی طور جنگ کے حق میں نہیں،جنگوں سے نفرت جنم لیتی ہے،تاہم اپنے عوام اور صوبے کے حقوق کی خاطر اور زیادتیوں کے خلاف مذمت اور مزاحمت پر یقین رکھتے ہیں،انہوں نے اسلام آباد میں مہمند ایجنسی کی فرشتہ کے بہیمانہ قتل کی مذمت کی اور کہا کہ ہم اپنے بچوں کے خون کا حساب لینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں عوامی حقوق کی آواز اٹھانے والے نمائندے بٹھا دیئے جائیں تو مسائل حل کئے جا سکتے ہیں،ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں معاشی چیلنجز درپیش ہیں،گزشتہ6سال سے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اس دوران صوبہ معاشی و انتظامی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی نے کرپشن کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت پائیلیکن نیب کی نظروں سے اوجھل ہے،بلین سونامی ٹری، ملم جبہ اراضی سکینڈل اور پشاور بیوٹیفیکیشن جیسے میگا کرپشن سکینڈل پر بھی احتسابی ادارہ مجرمانہ غفلت اختیار کئے ہوئے ہے، انہوں نے کہا کہ یہ تمام کرپشن سکینڈلز فور نہ کھولے گئے تو اے این پی عید کے بعد نیب کے دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کرے گی۔